Wednesday, 29 June 2011

عشق مجازی، عشق حقیقی

طے شدہ عشق مجازی، عشق حقیقی

"اپنی انا اور نفس کو ایک انسان کے سامنے پامال کرنے کا نام عشق مجازی ہے اور اپنی انا اور نفس کو سب کے سامنے پامال کرنے کا نام عشق حقیقی ہے، اصل میں دونوں ایک ہیں۔ عشق حقیقی ایک درخت ہے اور عشق مجازی اسکی شاخ ہے۔
جب انسان کا عشق لاحاصل رہتا ہے تو وہ دریا کو چھوڑ کر سمندر کا پیاسا بن جاتا ہے، چھوٹے راستے سے ہٹ کر بڑے مدار کا مسافر بن جاتا ہے۔۔۔ تب، اس کی طلب، اس کی ترجیحات بدل جاتیں ہیں۔"
زاویہ سوئم، باب :محبت کی حقیقت سے اقتباس

عشق

عشق

عشقعشق‘ رحمتِ ابدی کی طرف سے اولادِ آدم کو عطا کی جانے والی سب سے خفیہ نوازشوں میں سے ایک ہے۔یہ تقریباَ ہر فرد میں ایک مرکز‘ ایک تخم کی صورت میں موجود ہوتا ہے۔مساعدِ شرائط کی حد تک یہ تُ خم درختوں کی طرح شاخیں اورٹہنیاں نکالتا ہے‘ پھولوں کی طرح کھلتا ہے اور پھلوں کی طرح ابتدا اور انتہا کو ایک نقطے پر لا کر حلقہِ تکمیل کو مکمل کرتا ہے۔
* * * * *
عشق‘ آنکھوں ‘ کانوں اورقلب کے راستے ایک احساس کی طرح بہتا ہوا انسان کی باطنی دنیامیں پہنچ جاتا ہے اور وصال ہونے تک ایک دریائی بند کے پانی کی طرح چڑھتا رہتا ہے‘ ایک گلیشیئر کی طرح بڑا ہوتا رہتا ہے‘اور ایک شعلے کی طرح انسان کے ہر پہلوکو اپنی لپیٹ میں لیتا جاتا ہے۔جب عشق وصال کے نقطے تک پہنچ جاتا ہے توہر شے ساکن اور مدھم ہونا شروع ہو جاتی ہے‘ آگ بجھ جاتی ہے‘ ڈیم خالی ہو جاتا ہے‘ اور گلیشیئر بھی پگھل پگھل کر نا پید ہو جاتا ہے۔
* * * * *
عشق جو پیدائش کے وقت سے ہی ایک مرکز اور معنی کی شکل میں تقریباَ ہر انسان کی روح کا ایک اہم پہلو ہوتا ہے‘ اُسے اپنا حقیقی لہجہ اور رنگ اُس وقت حاصل ہوتا ہے جب وہ اپنے آپ کو حقیقی عشق (یعنی عشقِ اِلہٰی) میں تبدیل کر لیتا ہے۔یہ لہجہ اور رنگ ملنے کے بعد وہ ابدیت حاصل کر لیتا ہے اور وصال کی دہلیز پر پہنچ کر خود کو ایک پاک و صاف لذت میں تبدیل کر لیتا ہے۔
* * * * *
اولادِ آدم کے لیے تجلیاتِ حق کے لیے کھلی رہنے والی طور کی چوٹی دل ہے۔ دلوں کا اٍن تجلیات اوراِن کے وسیلے سے اللہ جلِّ جلالہ‘ کے عشق کا مظہر ہونے کی سب سے آشکار علامت خالقِ اعظم کے لیے انسان کا وہ عشق اور اشتیاق ہے جو اس کے سینے میں پنہاں ہوتا ہے۔
* * * * *
انسان کو اُفقِ کامل تک پہنچانے کی راہوں میں سے سب سے یقینی‘ نزدیک ترین اور سب سے صحتمند راہ‘ راہِ عشق ہے۔جوراہیں عشق اور اشتیاق کے لیے کھلی نہ ہوں اُن کے ذریعے اُس اُفق ِ کامل تک پہنچنا خاصہ مشکل کام ہے۔چناچہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ حقیقت تک رسائی کے لیے ”عجز و فُقر‘ شوق و شُکر“ کی راہ کے علاوہ راہِ عشق جیسی دوسری کوئی اور راہ نہیں ہے۔
* * * * *
عشق وہ بُراق ہے جو جنابِ حقِ تعالیٰ نے ہمیں جنتِ گم گشتہ کو تلاش کرنے کا راستہ طے کرنے کے لیے عطا کی ہے۔ اور یہ وہ بُراق ہے جس کے سواروں میں سے آج تک کوئی بھی ایسا نہیں ہو ا جو راستے ہی میں رہ گیا ہو۔البتہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اِس سماوی بُراق کی پیٹھ پر سوارلوگو ں کو ”سڑک کے کنارے کنارے“ پیدل چلتے عیاشی اور نشے میں مدہو ش لوگوں کا دکھائی دینا بھی بعیدازقیاس نہیں ہے۔ لیکن اس معاملے کا تعلق تمام تر اُن کے اور حق تعالیٰ کے باہمی تعلقات کے معیار سے ہے۔
* * * * *
عشق چونکہ انسان کو مکمل طور پر جلا کر راکھ کر دیتا ہے اس لیے آئندہ اُسے نہ اس دنیا کی آگ کے شعلے جلا سکیں گے اور نہ ہی عقبٰی کی نارِ جہنم۔اِس کی وجہ یہ ہے کہ دو سلامتیاں اور دو خوف‘ دو اشتیاق اور دو اضطراب ایک ہی وقت میں ایک ہی انسان میں نہیں پائے جا سکتے۔اِس بنیادی اصول کے مطابق‘ ساری زندگی میں اپنا سینہ عشق کی آگ کے سامنے کُھلا رکھنے والے‘ اپنی باطنی دنیا میں جہنم کی آگ سے مقابلہ کرنے والے لوگوں کا اُسی اضطراب اور اُسی الم میں دوبارہ زندگی گزارنا بعیداز عقل ہے۔۔۔
* * * * *
عشق‘ انسان کو اپنی ہستی بھلا کر اپنے محبوب کی ہستی سے یک جان کر دیتا ہے۔انسان کے دل کو کسی غرض اور بدلے کے بغیرمحض معشوق کا طالب بنا دینا‘ اُسی کی آرزو اور خواہش میں پگھل کر ختم ہو جاناہی عشق کا عنوان ہے۔اور میرے خیال میں انسان ہونے کا مقصد بھی تو یہی ہے۔
مسلکِ عشق کے مطابق عاشق کی آنکھوں میں دوسرے خیالات کا درآنا حرام ہے اور اِس حرام پر عمل درآمدکرنا عشق کی موت ہے۔ عشق کی زندگی اُس وقت اور حد تک باقی رہتی ہے جب تک عاشق کو اپنے اِرد گِرد سُنی جانے والی باتوں میں محبوب کا نام اوراُس کے عنوان‘ اُس کے حسن کی خوبیاں ‘ اور اُس کے کمالات کی داستانیں سُنائی دیتی رہتی ہیں ۔بصورتِ دیگر عشق بجھ کرناپید ہو جاتا ہے۔۔۔۔
* * * * *
عاشق کسی بھی معاملے میں معشوق کی مخالفت کے بارے میں نہ سوچتا ہے اور نہ سوچ سکتا ہے۔وہ خاص طور پر یہ تو کسی حال میں نہیں چاہتا کہ کوئی شے اُس کے محبوب پر سائے کی طرح چھا جائے یا خود سامنے آ کر اُس کی یاد بھلانے کی کوشش کرے۔یہاں تک کہ وہ تمام ایسے الفاظ کو بے فائدہ اور عبس قرار دیتا ہے جِن میں اُس کے محبوب کا ذکر نہ ہو۔وہ اپنے محبوب سے غیر متعلقہ ہر کام کو محبوب کے خلاف حرام خوری اور بے وفائی سمجھتا ہے۔
* * * * *
عشق ایک ایسی حالت ہے جس میں دل کا رشتہ‘اِرادے کی رغبت‘ احساسات کی اغیار سے تطہیر‘ اور انسان کے احساسات کاتعلق معشوق کے خوابوں اور تصورات کے علاوہ کسی دوسری چیز سے نہیں ہوتا۔ اِس حالت میں عاشق کی ہر حرکت میں معشوق کے بارے میں ایک معنی چمک اُٹھتا ہے‘ اُس کا دل معشوق کے اشتیاق کے ساتھ دھڑکتا ہے ‘اُس کی زبان ہر وقت محبوب ہی کا نام گُنگُناتی رہتی ہے‘ اور اُس کی آنکھیں اُسی کے خیال میں کھلتی اور بند ہوتی ہیں ۔
* * * * *
عاشق‘ چلتی آندھی میں ‘ برستی بارش میں ‘ آبشاریں بناتے دریاﺅں میں ‘چیختے چلاتے جنگل میں ‘ روشن ہوتی صبح اور سیاہی کی طرف مائل رات میں ہمیشہ اپنے دوست کی خوشبو سونگھ کر نئی زندگی پاتا ہے‘ اپنے ماحول میں منعکس ہوتے محبوب کے حسن کو دیکھ کر جوش میں آتا ہے‘ ہوا کے ہر جھونکے میں دوست کی سانسوں کو محسوس کر کے لطف اندوز ہوتا ہے‘ اور قدم قدم پر محبوب کے مظالم کو محسوس کرکے آہیں بھرتا ہے۔۔۔
* * * * *
شفق پر اپنے معشوق کے آثار دیکھ کر نیند سے جاگنے والے عاشق اپنے لبوں پر گہرا سرخ خون اور اپنے سینوں میں آگ کے شعلوں کا ایک طوفان دیکھتے ہیں اور اپنے آپ کو آگ کے ایک دائرے میں گھرا ہوا پاتے ہیں ۔ وہ ایک مرتبہ بھی اس پُر لذت جہنم سے باہر نہیں نکلنا چاہتے۔
* * * * *
یہ خیال کرنا کہ سچا عشق فاسق لوگوں کی شہوانی محبت پر مشتمل ہوتا ہے ایک غلطی اور نادانستگی کی علامت ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بعض اوقات مجازی عشق بھی حقیقی عشق میں تبدیل ہو جا تے ہیں لیکن اس کا کسی حال میں بھی یہ مطلب نہیں نکلتا کہ مجازی عشق کی بھی کوئی قدروقیمت ہوتی ہے۔ اِس کے برعکس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس قسم کے عشق میں خامیاں بھی ہیں اورقصوربھی‘ اور یہ ابدیت کا اظہارنہیں کرتا۔
* * * * *
 سچّے عاشق جس عشق میں مبتلا ہوتے ہیں اُس کی تپش کے باعث اِن کی باطنی دنیا ہمیشہ ایک آتش فشاں پہاڑ کی طرح دھوئیں میں اٹی رہتی ہے اور بُری طرح کراہتی رہتی ہے۔جو لوگ اِنہیں کراہتا سن کر نتیجہ نکال سکتے ہیں اُن کے مطابق اِن عشاق کی ہر آہ اُن کے سینوں سے پھوٹ کر نکلنے والا ایک ایسا لاوا ہوتی ہے جو ہر جگہ کو آگ لگا کر تباہ کرتا ہے اور جدھر جدھر جاتا ہے اُدھر ہی توڑ پھوڑ کرتا اور آگ لگاتا جاتا ہے۔
* * * * *
 عشق کو الفاظ میں بیان کرنا خاصا مشکل بلکہ ناممکن کام ہے۔یہی وجہ ہے کہ عشق کے نام پر بیان کی گئی باتوں کے ایک بڑے حصّے میں اس کے سطحی اثرات کو بیان کرنے کے سِوا کچھ بھی نہیں ہوتا۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ عشق ایک حالت کا نام ہے اور اٍسے بیان کرنے والی زبان خود عاشق ہے۔
* * * * *
عاشق ایک ایسا سرمست انسان ہے جو حق تعالیٰ کی محبت کو اپنا دین بنا کر اپنی زندگی کو حیرت‘ استعجاب اور اپنے محبوب کی تعریفوں کے احساسات سے سجا رکھتا ہے اور جو قیامت کا صور پھونکے جانے پر شاید ہی ہوش میں آ سکے۔
* * * * *
عاشق ایک فوارے کی طرح ہے جو ہمیشہ اپنے ہی اندر سے پھوٹتا رہتا ہے۔
* * * * *
 فانی ہونے کے دکھ کو کم کرنے والی‘ دکھ درد میں اٹھنے بیٹھنے والی روحوں کے اضطرا رکی آگ کو ٹھنڈا کرنے والی صرف ایک ہی شے ہے اور وہ ہے حقیقی عشق ۔ جی ہاں ! سالہا سال سے ہمارے دردوں کا اور اُن بیماریوں کا جنہیں ہم لا علاج سمجھتے ہیں ‘ ہمارے خوف اور اندیشوں کا ‘ ہماری الجھنوں اور بحرانوں کا واحد درمان اوریکتا علاج محض عشق ہے۔
* * * * *
علم و عرفان اور ہماری مروّجہ ثقافت کے ذریعے نسلِ انسانی کے احیاءکی کوششیں تو کی جا رہی ہیں مگرجب تک ہم لوگوں کے دلوں پر خواہ کم ہی سہی‘ عشق (الٰہی) کی چنگاریاں نہیں چھڑکتے تب تک یہ کوششیں نا کافی اور ناقص ہی رہیں گی اور کسی صورت میں بھی اُن کی مادیت کوزیر نہیں کر سکیں گی۔

صحابہ کرام کا جذبہ عشق نبی اور شوق شہادت

صحابہ کرام کا جذبہ عشق نبی اور شوق شہادت

صحابہ کرام کا جذبہ عشق نبی اور شوق شہادت

ہر نبی اور رسول علیہم الصلوٰۃ والسلام کے جاں نثار اور حواری ہر دور میں ہوئے، اور ہر دور کے حواریوں نے اپنی محبت ووفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے نبی کی اطاعت ومدد میں ہر ممکن کوشش کی۔ لیکن سید الانبیاء والمرسلین، افضل الخلق، سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حواری یعنی ساتھیوں نے عشق و محبت کا جو عالم گیر پیغام اور ثبوت دیا ہے اس کی مثال دنیا کی کسی بھی تاریخ میں نہیں پائی جاتی۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی مقدس اور پاکیزہ جماعت نے اپنے آقا ومولیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ ہمیشہ عشق صادق کا سلوک کرتے ہوئے اپنے قول وفعل سے ےہی کہا اور کیا:
کروں تیرے نام پہ جاں فدا، نہ بس ایک جاں، دو جہاں فدا
دوجہاں سے بھی نہیں جی بھرا کروں کیا کروڑوں جہاں نہیں
(از:- امام عشق ومحبت حضرت رضاؔ بریلوی)

محبوب رب العالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے عشق و محبت میں سرشار ہوکر انھوں نے دنیا کی کسی بھی چیز کی پرواہ نہیں کی۔ بڑی سے بڑی طاقت کو خاطر میں نہیں لائے۔ تحفظ ناموس رسالت کی خاطر اپنا سب کچھ نچھاور کردیا۔ اپنے آقا ومولیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عظمت ومحبت کو سب سے مقدم جان کر اس محبت کے آداب کی بجا آوری میں ہنسی خوشی اپنی جان تک قربان کردی۔ اپنے آقا ومولیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے نام پر مرمٹنے میں ہی انھوں نے اپنی حیات جانی اور اس شوق میں اپنے سرکٹا کر حیات جاویدانی پائی۔
مرنے والے کو یہاں ملتی ہے عمر جاوید
زندہ چھوڑے گی کسی کو نہ مسیحائی دوست
(از:- امام عشق ومحبت حضرت رضاؔ بریلوی)

جنگ بدر کے موقع پر حضور اقدس رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کے ساتھ مشورہ فرمایا اور لشکر کفار کے مقابلے میں جنگ وقتال کے متعلق ان کی رائے طلب فرمائی تو صحابہ کرام نے اپنے آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یوں عرض کیا :
''حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ ''یارسول اللہ! خدا کی قسم! آپ ہمیں عدن تک لے جائیں گے تو ہم انصار میں سے کوئی ایک شخص بھی آپ کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔''
''حضرت مقداد بن عمرو نے یوں عرض کیا کہ ''یا رسول اللہ ! ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ آپ جہاں چاہیں ہمیں لے جائیں۔ ہم کبھی بھی وہ بات اپنے منھ سے نہ نکالیں گے، جو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہی تھی کہ '' فَاذْھَبْ اَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلَا اِنَّا ھھُنَا قٰعِدُوْنَ ''(یعنی آپ جائیے اور آپ کا رب، تم دونوں لڑو، ہم یہاں بیٹھے ہیں) قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا۔ہم آپ کے ساتھ جائیں گے اور جہاں آپ جائیں گے آپ کے ساتھ مل کر مردانہ وار لڑیں گے۔

علامہ اقبال کی ایک فارسی غزل مع اردو ترجمہ

فَرقے نہ نہد عاشق در کعبہ و بتخانہ - علامہ اقبال کی ایک خوبصورت غزل

Tuesday, 21 June 2011




سوال ۔ بعض لوگ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے اور محافل میلاد منعقد کرنے کو بدعت و حرام کہتے ہیں ۔ قرآن و سنت اور ائمہ دین کے اقوال کی روشنی میں عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شرعی حیثیت بیان فرمائیے۔
جواب۔ ماہ ربیع الاول میں بالعموم اور بارہ بارہ ربیع الاول کو بالخصوص آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کی خوشی میں پورے عالم اسلام میں محافل میلاد منعقد کی جاتی ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا میلاد منانا جائز و مستحب ہے اور اس کی اصل قرآن و سنت سے ثابت ہے۔
ارشاد باری تعالی ہوا ، ( اور انہیں اللہ کے دن یاد دلاؤ ) ۔ ( ابراہیم ، 5 ) امام المفسرین سیدنا عبد اللہ بن عباس ( رضی اللہ عنہما ) کے نزدیک ایام اللہ سے مراد وہ دن ہیں۔جن میں رب تعالی کی کسی نعمت کا نزول ہوا ہو ۔ ( ان ایام میں سب سے بڑی نعمت کے دن سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت و معراج کے دن ہیں ، ان کی یا د قائم کرنا بھی اس آیت کے حکم میں داخل ہے)۔ (تفسیر خزائن العرفان)
بلاشبہ اللہ تعالی کی سب سے عظیم نعمت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مقدسہ ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہوا ، ( بیشک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا)۔ (آل عمران ،164)
آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم تو وہ عظیم نعمت ہیں کہ جن کے ملنے پر رب تعالی نے خوشیاں منانے کا حکم بھی دیا ہے ۔ ارشاد ہوا ، ( اے حبیب ! ) تم فرماؤ ( یہ ) اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت ( سے ہے ) اور اسی چاہیے کہ خوشی کریں ، وہ ( خو شی منانا ) ان کے سب دھن و دولت سے بہتر ہے ) ۔ ( یونس ، 58 ) ایک اور مقام پر نعمت کا چرچا کرنے کا حکم بھی ارشاد فرما یا، (اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو)۔ (الضحی 11، کنز الایمان)
خلاصہ یہ ہے کہ عید میلاد منانا لوگوں کو اللہ تعالی کے دن یا د دلانا بھی ہے، اس کی نعمت عظمی کا چرچا کرنا بھی اور اس نعمت کے ملنے کی خوشی منانا بھی۔ اگر ایمان کی نظر سے قرآن و حدیث کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ذکر میلاد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کی سنت بھی ہے ۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی۔
سورہ آل عمران کی آیت ( 81 ) ملاحظہ کیجیے ۔ رب ذوالجلا ل نے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام کی محفل میں اپنے حبیب لبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد اور فضائل کا ذکر فرمایا ۔ گویا یہ سب سے پہلی محفل میلاد تھی جسے اللہ تعالی نے منعقد فرمایا ۔ اور اس محفل کے شرکاء صرف انبیاء کرام علیہم السلام تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا میں تشریف آوری اور فضائل کا ذکر قرآن کریم کی متعدد آیات کریمہ میں موجود ہے۔
رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانہ کی چند محافل کا ذکر ملاحظہ فرمائیے۔ آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مسجد نبوی میں منبر شریف پر اپنا ذکر ولادت فرمایا۔ (جامع ترمذی ج 2 ص 201) آپ نے حضرت حسان رضی اللہ عنہ کے لیے منبر پر چادر بچھائی اور انہوں نے منبر پر بیٹھ کر نعت شریف پڑھی، پھر آپ نے ان کے لیے دعا فرمائی۔ (صحیح بخاری ج 1 ص 65) حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے غزوہ تبوک سے واپسی پر بارگاہ رسالت میں ذکر میلاد پر مبنی اشعار پیش کیے (اسد الغابہ ج 2 ص 129)
اسی طرح حضرات کعب بن زبیر ، سواد بن قارب ، عبد اللہ بن رواحہ ، کعب بن مالک و دیگر صحابہ کرام ( رضی اللہ عنہم ) کی نعتیں کتب احادیث و سیرت میں دیکھی جاسکتی ہیں ۔ بعض لوگ یہ وسوسہ اندازی کرتے ہیں کہ اسلام میں صرف دو عید یں ہیں لہذا تیسری عید حرام ہے ۔ ( معاذ ا للہ ) اس نظریہ کے باطل ہونے کے متعلق قرآن کریم سے دلیل لیجئے ۔ ارشاد باری تعالی ہے ، ( عیسیٰ بن مریم نے عرض کی ، اے اللہ ! اے ہمارے رب ! ہم پر آسمان سے ایک ( کھانے کا ) خوان اتار کہ وہ ہمارے لیے عید ہو ہمارے اگلوں پچھلوں کی)۔ (المائدہ ، 114، کنزالایمان)
صدر الافاضل فرماتے ہیں ، ( یعنی ہم اس کے نزول کے دن کو عید بنائیں ، اسکی تعظیم کریں ، خوشیاں منائیں ، تیری عبادت کریں ، شکر بجا لا ئیں ۔ اس سے معلوم ہو ا کہ جس روز اللہ تعالی کی خاص رحمت نازل ہو ۔ اس دن کو عید بنانا اور خوشیاں بنانا ، عبادتیں کرنا اور شکر بجا لانا صالحین کا طریقہ ہے ۔ اور کچھ شک نہیں کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری اللہ تعالی کی عظیم ترین نعمت اور بزرگ ترین رحمت ہے اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارکہ کے دن عید منانا اور میلاد شریف پڑھ کر شکر الہی بجا لانا اور اظہار فرح اور سرور کرنا مستحسن و محمود اور اللہ کے مقبول بندوں کا طریقہ ہے ) ۔ ( تفسیر خزائن العرفان )۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت (الیوم اکملت لکم دینکم ) تلاوت فرمائی تو ایک یہود ی نے کہا، اگر یہ آیت ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید مناتے۔ اس پر آپ نے فرمایا ، یہ آیت جس دن نازل ہوئی اس دن دو عیدیں تھیں، عید جمعہ اور عید عرفہ۔ (ترمذی) پس قرآن و حدیث سے ثابت ہوگیا کہ جس دن کوئی خاص نعمت نازل ہو اس دن عید منانا جائز بلکہ اللہ تعالی کے مقرب نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کی سنت ہے۔ چونکہ عید الفطر اور عید الاضحی حضور ﷺ ہی کے صدقے میں ملی ہیں اس لیے آپ کا یوم میلاد بدرجہ اولی عید قرار پایا۔
عید میلاد پہ ہوں قربان ہماری عیدیں
کہ اسی عید کا صدقہ ہیں یہ ساری عیدیں
شیخ عبد الحق محدث دہلوی قدس سرہ اکابر محدثین کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ شب میلاد مصفطے صلی اللہ علیہ وسلم شب قدر سے افضل ہے، کیونکہ شب قدر میں قرآن نازل ہو اس لیے وہ ہزار مہنوں سے بہتر قرار پائی تو جس شب میں صاحب قرآن آیا وہ کیونکہ شب قدر سے افضل نہ ہو گی؟ (ماثبت بالستہ)
جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند
اس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام
صحیح بخاری جلد دوم میں ہے کہ ابو لہب کے مرنے کے بعد حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اسے خ-واب میں بہت بری حالت میں دیکھا اور پوچھا ، مرنے کے بعد تیرا کیا حال رہا؟ ابو لہب نے کہا، تم سے جدا ہو کر میں نے کوئی راحت نہیں پائی سوائے اس کے کہ میں تھوڑا سا سیراب کیا جاتا ہوں کیونکہ میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی پیدائش کی خوشی میں اپنی لونڈی ثویبہ کو آزاد کیا تھا۔ امام ابن جزری فرماتے ہیں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے میلاد کی خوشی کی وجہ سے ابو لہب جیسے کافر کا یہ حا ل ہے کہ اس کے عذاب میں کمی کردی جاتی ہے ۔ حالانکہ ا س کی مذمت میں قرآن نازل ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مومن امتی کا کیا حال ہوگا ۔ جو میلاد کی خوشی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے سبب مال خرچ کرتا ہے ۔ قسم ہے میری عمر کی ، اس کی جزا یہی ہے کہ اللہ تعالی اسے اپنے افضل و کرم سے جنت نعیم میں داخ-ل فرمادے ۔ ( مواہب الدنیہ ج 1 ص27 ، مطبوعہ مصر )
اب ہم یہ جائزہ لیتے ہیں کہ خالق کائنات نے اپنے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جشن عید میلاد کیسے منایا؟ سیرت حلبیہ جص 78 اور خصائص کبری ج 1 ص 47 پر یہ روایت موجود ہے کہ (جس سال نور مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کو ودیعت ہوا وہ سال فتح و نصرت ، تر و تازگی اور خوشحالی کا سال کہلایا۔ اہل قریش اس سے قبل معاشی بد حالی اور قحط سالی میں مبتلا تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی برکت سے اس سال رب کریم نے ویران زمین کو شادابی اور ہریالی عطا فرمائی، سوکھے درخت پھلوں سے لدگئے اور اہل قریش خوشحال ہوگئے ) ۔ اہلسنت اسی مناسبت سے میلاد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی خوسی میں اپنی استطاعت کے مطابق کھانے، شیرینی اور پھل وغیرہ تقسیم کرتے ہیں ۔
عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر شمع رسالت کے پروانے چراغاں بھی کرتے ہیں ۔ اس کی اصل مندرجہ ذیل احادیث مبارکہ ہیں۔ آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ، (میری والدہ ماجدہ نے میری پیدائش کے وقت دیکھا کہ ان سے ایسا نور نکلا جس سے شام کے محلات روشن ہوگئے(۔ (مشکوہ)
حضرت آمنہ ( رضی اللہ عنہا ) فرماتی ہیں ، ( جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی تو ساتھ ہی ایسا نور نکلا جس سے مشرق سے مغرب تک ساری کائنات روشن ہوگئی ) ۔ (طبقاب ابن سعد ج 1 ص 102، سیرت جلسہ ج 1 ص 91)
ہم تو عید میلاد صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی میں اپنے گھروں ا ور مساجد پر چراغاں کرتے ہیں ، خالق کائنات نے نہ صرف سا ر ی کائنات میں چراغاں کیا بلکہ آسمان کے ستاروں کو فانوس اور قمقمے بنا کر زمین کے قریب کردیا ۔ حضرت عثمان بن ابی العاص ( رضی اللہ عنہ ) کی والدہ فرماتی ہیں ، ( جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی میں خانہ کعبہ کے پاس تھی ، میں نے دیکھا کہ خانہ کعبہ نور سے روشن ہوگیا ۔ اور ستارے زمین کے اتنے قریب آگئے کہ مجھے یہ گمان ہوا کہ کہیں وہ مجھ پر گر نہ پڑیں ) ۔ ( سیرت حلبیہ ج 1 ص 94 ، خصائص کبری ج 1 ص 40 ، زرقانی علی المواہب 1 ص 114)
سیدتنا آمنہ ( رضی اللہ عنہا ) فرماتی ہیں ، ( میں نے تین جھندے بھی دیکھے ، ایک مشرق میں گاڑا گیا تھا ۔ دوسرا مغرب میں اور تیسرا جھنڈا خا نہ کعبہ کی چھت پر لہرارہا تھا ) ۔ ( سیرت حلبیہ ج 1 ص 109 ) یہ حدیث ( الو فابا حوال مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ) مےں محدث ابن جوزی نے بھی روایت کی ہے ۔ اس سے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر جھنڈے لگانے کی اصل بھی ثابت ہوئی۔
عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر جلوس بھی نکالا جاتا ہے اور نعرئہ رسالت بلند کیے جاتے ہیں۔ اس کی اصل یہ حدیث پاک ہے کہ جب آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لائے تو اہلیان مدینہ نے جلوس کی صورت میں استقبال کیا۔ حدیث شریف میں ہے کہ مرد اور عورتیں گھروں کی چھتوں پر چرھ گئے اور بچے اور خدام گلیوں میں پھیل گئے، یہ سب با آواز بلند کہہ رہے تھے، یا محمد یا رسول اللہ ، یا محمد یا رسول اللہ ۔ (صلی اللہ علیہ وسلم) ۔(صحیح مسلم جلد دوم باب الھجرہ)
جشن عید میلا د النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شرعی حیثیت بیان کرنے کے بعد اب چند تاریخی حوالہ جات پیش خدمت ہیں ۔ جن سے ثا بت ہو جائے گا کہ محافل میلاد کا سلسلہ عالم اسلام میں ہمیشہ سے جاری ہے ۔
محدث ابن جوزی رحمہ اللہ (متوفی 597 ھ) فرماتے ہیں، (مکہ مکرمہ ، مدینہ طیبہ ، یمن ، مصر، شام اور تمام عالم اسلام کے لوگ مشرق سے مغرب تک ہمیشہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کے موقع پر محافل میلاد کا انعقاد کرتے چلے آرہے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ اہتمام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے تذکرے کا کیا جاتا ہے اور مسلمان ان محافل کے ذریعے اجر عظیم اور بڑی روحانی کامیابی پاتے ہیں)۔ (المیلاد النبوی ص 58)
امام ابن حجر شافعی ( رحمہ اللہ ) ۔ ( م 852 ھ ) فرماتے ہیں ، ( محافل میلاد و اذکار اکثر خیر ہی پر مشتمل ہوتی ہیں کیونکہ ان میں صدقات ذکر الہی اور بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں درود و سلام پیش کیا جاتا ہے)۔ (فتاوی حدیثیہ ص 129)
امام جلال الدین سیوطی ( رحمہ اللہ ) ۔ ( م 911 ھ ) فرماتے ہیں ، ( میرے نزدیک میلاد کے لیے اجتماع تلاوت قرآن ، حیات طیبہ کے واقعات اور میلاد کے وقت ظاہر ہونے والی علامات کا تذکرہ ان بدعات حسنہ میں سے ہے ۔ جن پر ثواب ملتا ہے ۔ کیونکہ اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم اور آپ کی ولادت پر خوشی کا ا ظہا ر ہوتا ہے ) ۔ ( حسن المقصد فی عمل المولدنی الہاوی للفتاوی ج 1 ص 189)
امام قسطلانی شارح بخاری رحمہ اللہ (م 923ھ) فرماتے ہیں، (ربیع الاول میں تمام اہل اسلام ہمیشہ سے میلاد کی خوشی میں محافل منعقد کرتے رہے ہیں۔ محفل میلادکی یہ برکت مجرب ہے کہ اس کی وجہ سے سارا سال امن سے گزرتا ہے ۔ اور ہر مراد جلد پوری ہوتی ہے۔ اللہ تعالی اس شخص پر رحمتیں نازل فرمائے جس نے ماہ میلاد کی ہر رات کو عید بنا کر ایسے شخص پر شدت کی جس کے دل میں مرض و عناد ہے)۔ (مواہب الدنیہ ج 1 ص 27)
شاہ عبد الرحیم محدث دہلوی رحمہ اللہ ( والد شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ ، م 1176 ھ ) فرماتے ہیں کہ میں ہر سال میلاد شریف کے دنوں میں کھانا پکوا کر لوگوں کو کھلایا کرتا تھا ۔ ایک سال قحط کی وجہ سے بھنے ہوئے چنوں کے سوا کچھ میسر نہ ہو ا ، میں نے وہی چنے تقسیم کرد یے ۔ رات کو خواب میں آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہو اتو دیکھا کہ وہی بھنے ہوئے چنے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھے ہوئے ہیں اور آپ بیحد خوش اور مسرور ہیں۔ (الدار الثمین ص8)
ان دلائل و براہین سے ثابت ہوگیا کہ میلا د النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محافل منعقد کرنے اور میلاد کا جشن منانے کا سلسلہ امت مسلمہ میں صدیوں سے جاری ہے ۔ اور اسے بدعت و حرام کہنے والے دراصل خود بدعتی و گمراہ ہیں۔



عید میلاد النبی ﷺ کی شرعی حیثیت


سوال ۔ بعض لوگ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے اور محافل میلاد منعقد کرنے کو بدعت و حرام کہتے ہیں ۔ قرآن و سنت اور ائمہ دین کے اقوال کی روشنی میں عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شرعی حیثیت بیان فرمائیے۔
جواب۔ ماہ ربیع الاول میں بالعموم اور بارہ بارہ ربیع الاول کو بالخصوص آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کی خوشی میں پورے عالم اسلام میں محافل میلاد منعقد کی جاتی ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا میلاد منانا جائز و مستحب ہے اور اس کی اصل قرآن و سنت سے ثابت ہے۔
ارشاد باری تعالی ہوا ، ( اور انہیں اللہ کے دن یاد دلاؤ ) ۔ ( ابراہیم ، 5 ) امام المفسرین سیدنا عبد اللہ بن عباس ( رضی اللہ عنہما ) کے نزدیک ایام اللہ سے مراد وہ دن ہیں۔جن میں رب تعالی کی کسی نعمت کا نزول ہوا ہو ۔ ( ان ایام میں سب سے بڑی نعمت کے دن سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت و معراج کے دن ہیں ، ان کی یا د قائم کرنا بھی اس آیت کے حکم میں داخل ہے)۔ (تفسیر خزائن العرفان)
بلاشبہ اللہ تعالی کی سب سے عظیم نعمت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مقدسہ ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہوا ، ( بیشک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا)۔ (آل عمران ،164)
آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم تو وہ عظیم نعمت ہیں کہ جن کے ملنے پر رب تعالی نے خوشیاں منانے کا حکم بھی دیا ہے ۔ ارشاد ہوا ، ( اے حبیب ! ) تم فرماؤ ( یہ ) اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت ( سے ہے ) اور اسی چاہیے کہ خوشی کریں ، وہ ( خو شی منانا ) ان کے سب دھن و دولت سے بہتر ہے ) ۔ ( یونس ، 58 ) ایک اور مقام پر نعمت کا چرچا کرنے کا حکم بھی ارشاد فرما یا، (اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو)۔ (الضحی 11، کنز الایمان)
خلاصہ یہ ہے کہ عید میلاد منانا لوگوں کو اللہ تعالی کے دن یا د دلانا بھی ہے، اس کی نعمت عظمی کا چرچا کرنا بھی اور اس نعمت کے ملنے کی خوشی منانا بھی۔ اگر ایمان کی نظر سے قرآن و حدیث کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ذکر میلاد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کی سنت بھی ہے ۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی۔
سورہ آل عمران کی آیت ( 81 ) ملاحظہ کیجیے ۔ رب ذوالجلا ل نے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام کی محفل میں اپنے حبیب لبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد اور فضائل کا ذکر فرمایا ۔ گویا یہ سب سے پہلی محفل میلاد تھی جسے اللہ تعالی نے منعقد فرمایا ۔ اور اس محفل کے شرکاء صرف انبیاء کرام علیہم السلام تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا میں تشریف آوری اور فضائل کا ذکر قرآن کریم کی متعدد آیات کریمہ میں موجود ہے۔
رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانہ کی چند محافل کا ذکر ملاحظہ فرمائیے۔ آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مسجد نبوی میں منبر شریف پر اپنا ذکر ولادت فرمایا۔ (جامع ترمذی ج 2 ص 201) آپ نے حضرت حسان رضی اللہ عنہ کے لیے منبر پر چادر بچھائی اور انہوں نے منبر پر بیٹھ کر نعت شریف پڑھی، پھر آپ نے ان کے لیے دعا فرمائی۔ (صحیح بخاری ج 1 ص 65) حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے غزوہ تبوک سے واپسی پر بارگاہ رسالت میں ذکر میلاد پر مبنی اشعار پیش کیے (اسد الغابہ ج 2 ص 129)
اسی طرح حضرات کعب بن زبیر ، سواد بن قارب ، عبد اللہ بن رواحہ ، کعب بن مالک و دیگر صحابہ کرام ( رضی اللہ عنہم ) کی نعتیں کتب احادیث و سیرت میں دیکھی جاسکتی ہیں ۔ بعض لوگ یہ وسوسہ اندازی کرتے ہیں کہ اسلام میں صرف دو عید یں ہیں لہذا تیسری عید حرام ہے ۔ ( معاذ ا للہ ) اس نظریہ کے باطل ہونے کے متعلق قرآن کریم سے دلیل لیجئے ۔ ارشاد باری تعالی ہے ، ( عیسیٰ بن مریم نے عرض کی ، اے اللہ ! اے ہمارے رب ! ہم پر آسمان سے ایک ( کھانے کا ) خوان اتار کہ وہ ہمارے لیے عید ہو ہمارے اگلوں پچھلوں کی)۔ (المائدہ ، 114، کنزالایمان)
صدر الافاضل فرماتے ہیں ، ( یعنی ہم اس کے نزول کے دن کو عید بنائیں ، اسکی تعظیم کریں ، خوشیاں منائیں ، تیری عبادت کریں ، شکر بجا لا ئیں ۔ اس سے معلوم ہو ا کہ جس روز اللہ تعالی کی خاص رحمت نازل ہو ۔ اس دن کو عید بنانا اور خوشیاں بنانا ، عبادتیں کرنا اور شکر بجا لانا صالحین کا طریقہ ہے ۔ اور کچھ شک نہیں کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری اللہ تعالی کی عظیم ترین نعمت اور بزرگ ترین رحمت ہے اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارکہ کے دن عید منانا اور میلاد شریف پڑھ کر شکر الہی بجا لانا اور اظہار فرح اور سرور کرنا مستحسن و محمود اور اللہ کے مقبول بندوں کا طریقہ ہے ) ۔ ( تفسیر خزائن العرفان )۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت (الیوم اکملت لکم دینکم ) تلاوت فرمائی تو ایک یہود ی نے کہا، اگر یہ آیت ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید مناتے۔ اس پر آپ نے فرمایا ، یہ آیت جس دن نازل ہوئی اس دن دو عیدیں تھیں، عید جمعہ اور عید عرفہ۔ (ترمذی) پس قرآن و حدیث سے ثابت ہوگیا کہ جس دن کوئی خاص نعمت نازل ہو اس دن عید منانا جائز بلکہ اللہ تعالی کے مقرب نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کی سنت ہے۔ چونکہ عید الفطر اور عید الاضحی حضور ﷺ ہی کے صدقے میں ملی ہیں اس لیے آپ کا یوم میلاد بدرجہ اولی عید قرار پایا۔
عید میلاد پہ ہوں قربان ہماری عیدیں
کہ اسی عید کا صدقہ ہیں یہ ساری عیدیں
شیخ عبد الحق محدث دہلوی قدس سرہ اکابر محدثین کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ شب میلاد مصفطے صلی اللہ علیہ وسلم شب قدر سے افضل ہے، کیونکہ شب قدر میں قرآن نازل ہو اس لیے وہ ہزار مہنوں سے بہتر قرار پائی تو جس شب میں صاحب قرآن آیا وہ کیونکہ شب قدر سے افضل نہ ہو گی؟ (ماثبت بالستہ)
جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند
اس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام
صحیح بخاری جلد دوم میں ہے کہ ابو لہب کے مرنے کے بعد حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اسے خ-واب میں بہت بری حالت میں دیکھا اور پوچھا ، مرنے کے بعد تیرا کیا حال رہا؟ ابو لہب نے کہا، تم سے جدا ہو کر میں نے کوئی راحت نہیں پائی سوائے اس کے کہ میں تھوڑا سا سیراب کیا جاتا ہوں کیونکہ میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی پیدائش کی خوشی میں اپنی لونڈی ثویبہ کو آزاد کیا تھا۔ امام ابن جزری فرماتے ہیں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے میلاد کی خوشی کی وجہ سے ابو لہب جیسے کافر کا یہ حا ل ہے کہ اس کے عذاب میں کمی کردی جاتی ہے ۔ حالانکہ ا س کی مذمت میں قرآن نازل ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مومن امتی کا کیا حال ہوگا ۔ جو میلاد کی خوشی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے سبب مال خرچ کرتا ہے ۔ قسم ہے میری عمر کی ، اس کی جزا یہی ہے کہ اللہ تعالی اسے اپنے افضل و کرم سے جنت نعیم میں داخ-ل فرمادے ۔ ( مواہب الدنیہ ج 1 ص27 ، مطبوعہ مصر )
اب ہم یہ جائزہ لیتے ہیں کہ خالق کائنات نے اپنے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جشن عید میلاد کیسے منایا؟ سیرت حلبیہ جص 78 اور خصائص کبری ج 1 ص 47 پر یہ روایت موجود ہے کہ (جس سال نور مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کو ودیعت ہوا وہ سال فتح و نصرت ، تر و تازگی اور خوشحالی کا سال کہلایا۔ اہل قریش اس سے قبل معاشی بد حالی اور قحط سالی میں مبتلا تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی برکت سے اس سال رب کریم نے ویران زمین کو شادابی اور ہریالی عطا فرمائی، سوکھے درخت پھلوں سے لدگئے اور اہل قریش خوشحال ہوگئے ) ۔ اہلسنت اسی مناسبت سے میلاد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی خوسی میں اپنی استطاعت کے مطابق کھانے، شیرینی اور پھل وغیرہ تقسیم کرتے ہیں ۔
عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر شمع رسالت کے پروانے چراغاں بھی کرتے ہیں ۔ اس کی اصل مندرجہ ذیل احادیث مبارکہ ہیں۔ آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ، (میری والدہ ماجدہ نے میری پیدائش کے وقت دیکھا کہ ان سے ایسا نور نکلا جس سے شام کے محلات روشن ہوگئے(۔ (مشکوہ)
حضرت آمنہ ( رضی اللہ عنہا ) فرماتی ہیں ، ( جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی تو ساتھ ہی ایسا نور نکلا جس سے مشرق سے مغرب تک ساری کائنات روشن ہوگئی ) ۔ (طبقاب ابن سعد ج 1 ص 102، سیرت جلسہ ج 1 ص 91)
ہم تو عید میلاد صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی میں اپنے گھروں ا ور مساجد پر چراغاں کرتے ہیں ، خالق کائنات نے نہ صرف سا ر ی کائنات میں چراغاں کیا بلکہ آسمان کے ستاروں کو فانوس اور قمقمے بنا کر زمین کے قریب کردیا ۔ حضرت عثمان بن ابی العاص ( رضی اللہ عنہ ) کی والدہ فرماتی ہیں ، ( جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی میں خانہ کعبہ کے پاس تھی ، میں نے دیکھا کہ خانہ کعبہ نور سے روشن ہوگیا ۔ اور ستارے زمین کے اتنے قریب آگئے کہ مجھے یہ گمان ہوا کہ کہیں وہ مجھ پر گر نہ پڑیں ) ۔ ( سیرت حلبیہ ج 1 ص 94 ، خصائص کبری ج 1 ص 40 ، زرقانی علی المواہب 1 ص 114)
سیدتنا آمنہ ( رضی اللہ عنہا ) فرماتی ہیں ، ( میں نے تین جھندے بھی دیکھے ، ایک مشرق میں گاڑا گیا تھا ۔ دوسرا مغرب میں اور تیسرا جھنڈا خا نہ کعبہ کی چھت پر لہرارہا تھا ) ۔ ( سیرت حلبیہ ج 1 ص 109 ) یہ حدیث ( الو فابا حوال مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ) مےں محدث ابن جوزی نے بھی روایت کی ہے ۔ اس سے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر جھنڈے لگانے کی اصل بھی ثابت ہوئی۔
عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر جلوس بھی نکالا جاتا ہے اور نعرئہ رسالت بلند کیے جاتے ہیں۔ اس کی اصل یہ حدیث پاک ہے کہ جب آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لائے تو اہلیان مدینہ نے جلوس کی صورت میں استقبال کیا۔ حدیث شریف میں ہے کہ مرد اور عورتیں گھروں کی چھتوں پر چرھ گئے اور بچے اور خدام گلیوں میں پھیل گئے، یہ سب با آواز بلند کہہ رہے تھے، یا محمد یا رسول اللہ ، یا محمد یا رسول اللہ ۔ (صلی اللہ علیہ وسلم) ۔(صحیح مسلم جلد دوم باب الھجرہ)
جشن عید میلا د النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شرعی حیثیت بیان کرنے کے بعد اب چند تاریخی حوالہ جات پیش خدمت ہیں ۔ جن سے ثا بت ہو جائے گا کہ محافل میلاد کا سلسلہ عالم اسلام میں ہمیشہ سے جاری ہے ۔
محدث ابن جوزی رحمہ اللہ (متوفی 597 ھ) فرماتے ہیں، (مکہ مکرمہ ، مدینہ طیبہ ، یمن ، مصر، شام اور تمام عالم اسلام کے لوگ مشرق سے مغرب تک ہمیشہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کے موقع پر محافل میلاد کا انعقاد کرتے چلے آرہے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ اہتمام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے تذکرے کا کیا جاتا ہے اور مسلمان ان محافل کے ذریعے اجر عظیم اور بڑی روحانی کامیابی پاتے ہیں)۔ (المیلاد النبوی ص 58)
امام ابن حجر شافعی ( رحمہ اللہ ) ۔ ( م 852 ھ ) فرماتے ہیں ، ( محافل میلاد و اذکار اکثر خیر ہی پر مشتمل ہوتی ہیں کیونکہ ان میں صدقات ذکر الہی اور بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں درود و سلام پیش کیا جاتا ہے)۔ (فتاوی حدیثیہ ص 129)
امام جلال الدین سیوطی ( رحمہ اللہ ) ۔ ( م 911 ھ ) فرماتے ہیں ، ( میرے نزدیک میلاد کے لیے اجتماع تلاوت قرآن ، حیات طیبہ کے واقعات اور میلاد کے وقت ظاہر ہونے والی علامات کا تذکرہ ان بدعات حسنہ میں سے ہے ۔ جن پر ثواب ملتا ہے ۔ کیونکہ اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم اور آپ کی ولادت پر خوشی کا ا ظہا ر ہوتا ہے ) ۔ ( حسن المقصد فی عمل المولدنی الہاوی للفتاوی ج 1 ص 189)
امام قسطلانی شارح بخاری رحمہ اللہ (م 923ھ) فرماتے ہیں، (ربیع الاول میں تمام اہل اسلام ہمیشہ سے میلاد کی خوشی میں محافل منعقد کرتے رہے ہیں۔ محفل میلادکی یہ برکت مجرب ہے کہ اس کی وجہ سے سارا سال امن سے گزرتا ہے ۔ اور ہر مراد جلد پوری ہوتی ہے۔ اللہ تعالی اس شخص پر رحمتیں نازل فرمائے جس نے ماہ میلاد کی ہر رات کو عید بنا کر ایسے شخص پر شدت کی جس کے دل میں مرض و عناد ہے)۔ (مواہب الدنیہ ج 1 ص 27)
شاہ عبد الرحیم محدث دہلوی رحمہ اللہ ( والد شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ ، م 1176 ھ ) فرماتے ہیں کہ میں ہر سال میلاد شریف کے دنوں میں کھانا پکوا کر لوگوں کو کھلایا کرتا تھا ۔ ایک سال قحط کی وجہ سے بھنے ہوئے چنوں کے سوا کچھ میسر نہ ہو ا ، میں نے وہی چنے تقسیم کرد یے ۔ رات کو خواب میں آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہو اتو دیکھا کہ وہی بھنے ہوئے چنے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھے ہوئے ہیں اور آپ بیحد خوش اور مسرور ہیں۔ (الدار الثمین ص8)
ان دلائل و براہین سے ثابت ہوگیا کہ میلا د النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محافل منعقد کرنے اور میلاد کا جشن منانے کا سلسلہ امت مسلمہ میں صدیوں سے جاری ہے ۔ اور اسے بدعت و حرام کہنے والے دراصل خود بدعتی و گمراہ ہیں۔

نماز کا قصر کا بیان




مجھے میری ایک ویب سائیٹ سے ایک دوست نے ای میل کی اور مسافر کی نماز کے بارے میں سوال کیا کہ مسافر کی نماز یعنی قصر نماز کے بارے میں بتائیں، چونکہ اس بارے میں کوئی تحریر موجود نہ تھی اس لئے میں نے بہتر سمجھا کہ دوستوں کو بھی اس سے کچھ حد تک آگاہی دی جائے۔ 
گو کہ میرا ذاتی علم اس بارے میں بہت کم ہے اور نہ ہی میں اتنا پڑھا لکھا ہوں کہ اپنی ذاتی رائے دے سکوں اس لئے میں نے صحیح بخاری سے تلاش کر کے اس کے باب “نماز کا قصر کا بیان “ میں سے چیدہ چیدہ پوائنٹ یہاں پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔

ساتھ ہی ساتھ مجیب منصور بھیا اور اسد اللہ شاہ صاحب سے گزارش ہے کہ اس ضمن میں اگر ہو سکے تو مزید تفصیلات شئیر کریں اور اگر میری تحریر و تجویز میں کہیں کوئی غلطی کوتاہی ہو تو براہ مہربانی تصحیح فرما دیں۔


نماز کا قصر کا بیان

صحیح بخاری


باب : نماز قصر کے بارے میں کیا وارد ہوا ہے اور کتنے دنوں تک قیام کرے تو قصر کر سکتا ہے؟


حدیث نمبر : 575 
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک مرتبہ) انیس دن قیام فرمایا اور برابر قصر کرتے رہے۔

حدیث نمبر : 576 
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مدینہ سے مکہ تک گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر دو دو رکعت نماز پڑھتے رہے یہاں تک کہ ہم لوگ مدینہ واپس آ گئے (راوی ابواسحاق نے کہا) میں نے (انس رضی اللہ عنہ سے) کہا کہ آپ نے مکہ میں کچھ قیام کیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ہم دس دن وہاں ٹھہرے تھے۔


باب : منیٰ میں نماز کو قصر کریں یا پوری پڑھیں؟


حدیث نمبر : 577 
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، میں نے منیٰ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ دو رکعت نماز پڑھی اور امیرالمؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ کے ہمراہ بھی ان کے ابتدائی دور خلافت میں (دو ہی رکعت پڑھی) اس کے بعد انہوں نے پوری نماز شروع کر دی۔

حدیث نمبر : 578 
سیدنا حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت امن کی حالت میں مقام منیٰ میں ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی۔

حدیث نمبر : 579 
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ان سے کہا گیا کہ امیرالمؤمنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں ہم لوگوں کو چار رکعت نماز پڑھائی تو انہوں نے کہا کہ ((انا للہ وانا الیہ راجعون)) پھر انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ منیٰ میں دو رکعتیں پڑھیں اور امیرالمؤمنین سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ منیٰ میں دو رکعتیں پڑھیں اور امیرالمؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ منیٰ میں دو رکعتیں پڑھیں۔ اے کاش! بجائے ان چار رکعتوں کے میرے حصے میں وہی دو مقبول رکعتیں آتیں۔ (جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور امیرالمؤمنین ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما پڑھا کرتے تھے)۔


باب : کس قدر سفر میں نماز قصر کرے؟


حدیث نمبر : 580 
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ جو عورت اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے اس کے لیے جائز نہیں کے ایک دن رات کی مسافت کا سفر (اس حال میں) کرے کہ اس کے ہمراہ کوئی محرم نہ ہو۔


باب : مغرب کی نماز سفر میں (بھی) تین رکعت پڑھے۔


حدیث نمبر : 581 
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر میں جلدی ہوتی تھی تو مغرب کی نماز (میں تاخیر کر دیتے پھر) جب (اس کو) پڑھتے تو تین رکعت پڑھتے اور پھر تھوڑی ہی دیر ٹھہر کر عشاء کی نماز پڑھ لیتے اور اس کی دو رکعتیں پڑھتے پھر سلام پھیر دیتے اور عشاء کے بعد نفل نماز نہ پڑھتے تھے یہاں تک کہ نصف شب کو اٹھتے اور تہجد کی نماز پڑھتے۔


باب : سواری پر نفلی نماز (جیسے تہجد وغیرہ) ادا کرنا، چاہے سواری کا منہ کسی بھی سمت ہو۔


حدیث نمبر : 582 
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نفل نماز سوار ہونے کی حالت میں ہی پڑھ لیتے تھے حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ کی بجائے کسی اور سمت جاتے ہوتے۔


باب : نفل نماز کا گدھے پر سواری کی حالت میں پڑھنا۔


حدیث نمبر : 583 
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے گدھے پر سوار ہو کر نماز پڑھی اور ان کا منہ قبلہ کے بائیں طرف تھا، (جب وہ نماز پڑھ چکے) تو پوچھا گیا کہ آپ نے خلاف قبلہ نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں (کبھی) ایسا نہ کرنا۔


باب : سفر میں فرض نماز کے بعد سنتیں نہ پڑھنا۔


حدیث نمبر : 584 
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ (سفر میں بہت) رہا ہوں مگر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر میں سنتیں پڑھتے کبھی نہیں دیکھا اور اللہ تعالیٰ (سورۃ الممتحنہ میں) فرماتا ہے کہ “ بیشک تم لوگوں کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال میں ایک بہترین نمونہ ہے۔” 


باب : جس شخص نے سفر میں فرض نماز سے پہلے یا بعد کی سنتیں نہ پڑھیں (بلکہ کوئی اور نفل نماز (یعنی تہجد یا اشراق) پڑھی تو اس نے خلاف سنت نہیں کیا)۔


حدیث نمبر : 585 
سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو سفر میں اپنی سواری پر نفل نماز پڑھتے تھے، بھلے اس سواری کا منہ جس طرح بھی ہو۔ (یعنی خلاف کعبہ ہو تب بھی)۔


باب : سفر میں مغرب اور عشاء کی نماز ایک ساتھ پڑھنا۔


حدیث نمبر : 586 
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر میں چلتے ہوتے تو ظہر اور عصر جمع کر لیتے اور مغرب اور عشاء کو بھی جمع کر کے ادا فرماتے تھے۔


باب : اگر بیٹھ کر نماز پڑھنے کی طاقت نہ ہو تو پہلو پر لیٹ کر نماز پڑھے۔


حدیث نمبر : 587 
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے بواسیر تھی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کی بابت پوچھا کہ بیٹھ کر پڑھوں تو جائز ہے یا نہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ کھڑے ہو کر پڑھو اور اگر طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پھر اگر بیٹھنے کی بھی طاقت نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر نماز پڑھو۔” 


باب : جب مریض بیٹھ کر نماز شروع کر دے پھر درمیان نماز اچھا ہو جائے یا مرض میں تخفیف معلوم ہو تو باقی نماز کھڑے ہو کر مکمل کرے۔


حدیث نمبر : 588 
ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تہجد کی نماز کبھی بیٹھ کر پڑھتے نہیں دیکھا یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک زیادہ ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر قرآت کرتے پھر جب رکوع کرنا چاہتے تو کھڑے ہو جاتے اور تقریبا تیس یا چالیس آیتیں پڑھ کر رکوع کرتے۔

حدیث نمبر : 589 
ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ایک روایت میں کہتی ہیں کہ دوسری رکعت میں بھی ایسا کرتے تھے پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز مکمل کر لیتے تو دیکھتے اگر میں جاگتی ہوتی تو میرے ساتھ باتیں کرتے اور اگر میں سوئی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ رہتے۔

_________________
گنگناتی ہوئی آتی ہیں فلک سے بوندیں
کوئی بدلی تیری پازیب سے ٹکرائی ہے

حفظان صحت اور ہدایات نبوی


حفظان صحت اور ہدایات نبوی
صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم


چونکہ صحت و عافیت اللہ تعالٰی کی اپنے بندے پر سب سے بڑی اور اہم نعمت ہے اور اس کے عطیات و انعامات میں سب سے عمدہ ترین اور کامل ترین ہے، لٰہذا ہر شخص کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی صحت و عافیت کی حفاظت و مراعات اور اس کی نگہبانی اور نگرانی ان تمام چیزوں سے کرے جو صحت کے منافی ہیں اور جس سے صحت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

چنانچہ حدیث شریف میں ارشاد ہے۔ “تمہارے جسم کا بھی تمہارے اوپر حق ہے اور وہ یہی حق ہے کہ انسان اپنے جسم کی حفاظت کرے اور ایسے اسباب پیدا نہ ہونے دئیے جائیں کہ بدن کو بیماریوں کی حد تک پہنچا دیا جائے۔“ آج کی تحقیقات نے تندرستی کے لئے یہ باتیں ضروری قرار دی ہیں۔ مثلاً بدن اور لباس صاف ستھرا رکھنا۔ پانچ وقت اعضائے ظاہری کو پاک صاف رکھنا یعنی وضو، غسل اور نماز کو قائم کرنا صحت و توانائی کے ضامن ہیں۔

یہ بھی حدیث شریف ہے کہ اللہ عزوجل کی نظر میں ایک قوی مومن کمزور مومن کے مقابلہ میں بہتر اور پسندیدہ ہے۔ یہ حدیث اس بات پر زور دیتی ہے کہ مسلمانوں کو اپنی صحت کی طرف خیال کرنا اور ہمیشہ صحت مند رہنے کی کوشش کرنی چاہئیے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ محض بیماری اور ضعف کو دور کرنے کا نام صحت نہیں ہے بلکہ مکمل طور پر جسمانی، روحانی اور سماجی آسودگی کا نام صحت ہے۔

حفظان صحت کے اصولوں کا تاجدار رسالت  کو اس قدر اہتمام تھا کہ ابو قیس  خدمت اقدس میں ایسے وقت حاضر ہوئے کہ وہ خطبہ سننے کے لئے دھوپ میں کھڑے ہو گئے۔ پیارے آقا  نے انہیں حکم فرمایا اور وہ سایہ کی طرف ہٹ گئے۔

حضرت ابو ہریرہ  کی بیان کردہ ایک حدیث کا یہ حصہ ہر مسافر کو اپنے پیش نظر رکھنا چاہئیے۔ فرماتے ہیں :۔

“دوران سفر رات بسر کرنے کے لئے عام گزر گاہ سے ہٹ کر آرام کرو کیونکہ سڑک چوپاؤں کی گزرگاہ اور کیڑے مکوڑوں کا ٹھکانہ ہوتی ہے۔“
(مسلم)

تاجدار رسالت  نے فرمایا، جب تک میں سے کوئی شخص سایہ میں ہو اور سایہ اس میں سے یوں گزرنے لگے کہ اس کا جسم کا ایک حصہ دھوپ میں آ جائے اور دوسرا حصہ سایہ میں ہو تو اسے چاہئیے کہ کھڑا ہو جائے۔ (ابو داؤد)
یعنی آدھا دھوپ اور آدھا چھاؤں میں نہ رہے کیونکہ اس سے بیماری کا خطرہ ہوتا ہے۔

اس موضوع پر ہم ایک مختصر گفتگو نقل کرتے ہیں جو حضور اکرم  اور ان کے ایک صحابی حضرت ابی الدرداء  کے مابین ہوئی۔ صحابی نے عرض کی، یارسول اللہ  اگر مجھے صحت و عافیت حاصل رہے تو میں شکر ادا کرتا ہوں اور یہ بات مجھے اس امر کے مقابلہ میں زیادہ محبوب ہے کہ میں بیماری سے آزمائش میں پڑوں اور صبر کروں۔ تاجدار رسالت  نے یہ سن کر فرمایا۔ “اللہ عزوجل کا رسول  بھی تیرے ساتھ صحت و عافیت کو محبوب رکھتا ہے۔“
 (الطب نبوی  الکحال)

آپ  نے ایسے کاموں سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے جو مضر صحت ہوں۔ مثلاً رات کو برتن کھلے چھوڑ دینا، دروازے بند نہ کرنا۔ چراغ جلتا چھوڑ دینا، آگ نہ بجھانا وغیرہ۔

اور یہ بھی ضروری ہے کہ اپنے جذبات اور خواہشات پر قابو رکھنا ایک مسلمان کی صفت ہے اور جسم و روح کے لئے صحت کی شرط ہے۔ خیالات کی پرا گندگی اور ذہنی آوارگی سے صرف قلب ہی مردہ نہیں ہوتا بلکہ چہرے کی معصومیت اور فطری حسن بھی ختم ہو جاتا ہے۔

امام بخاری نے اپنی صحیح میں حضرت عبداللہ بن عباس  سے یہ حدیث روایت کی ہے کہ تاجدار مدینہ  نے فرمایا کہ دو نعمتیں انسان پر ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ ان میں غفلت کر جاتے ہیں۔
ایک صحت اور دوسرے فارغ البالی۔

سنن نسائی میں حضرت ابو ہریرہ  سے مرفوعاً حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ  نے فرمایا۔ اللہ تعالٰی سے تم فضل و عافیت اور صحت طلب کرو۔ اس لئے کہ کسی کو یقین کے بعد صحت مندی سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں عطا کی گئی۔

ترمذی ہی میں حدیث ابو ہریرہ  منقول ہے کہ تاجدار رسالت  نے فرمایا کہ قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے عطا کردہ نعمت کے بارے میں سوال کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ ہم نے تمہارے جسم کو تندرست نہیں بنایا تھا اور تمہیں آب سرد سے ہم نے سیراب نہیں کیا تھا۔

مسند امام میں مذکور ہے کہ نبی کریم  نے اپنے چچا حضرت عباس  سے فرمایا۔ “اے چچا ! دنیا اور آخرت دونوں اللہ عزوجل سے عافیت مانگئیے۔“

مسند احمد ہی میں حضرت ابو بکر صدیق  سے روایت ہے۔ انہوں نے بیان فرمایا ہے کہ میں نے تاجدار انبیاء  کو فرماتے ہوئے سنا کہ خدا سے یقین اور عافیت طلب کرو، اس لئے کہ کسی کو یقین کے بعد سب سے بڑی دولت ملی ہے، وہ عافیت ہے۔

اس حدیث میں دنیا و آخرت دونوں کی عافیت کو یکجا کر دیا ہے کیونکہ دنیا و آخرت میں بندے کی پوری طور پر اصلاح یقین و عافیت کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ یقین کے ذریعے آخرت کے عذاب کا دفاع ہوتا ہے اور عافیت سے دنیا کے تمام قلبی و جسمانی امراض دور ہوتے ہیں۔

حضرت عبداللہ بن عباس  سے روایت ہے کہ رسول اللہ  کے پاس ایک اعرابی آیا اور آپ  سے عرض کیا کہ پنجگانہ نماز کی ادائیگی کے بعد میں خدا سے کس چیز کا سوال کروں۔ آپ  نے فرمایا کہ خدا سے عافیت طلب کرو۔ اس کو آپ  نے دوبارہ ارشاد فرمایا اور تیسری مرتبہ فرمایا کہ دنیا اور آخرت دونوں میں عافیت طلب کرو۔

__________________