Sunday, 27 February 2011


وقتِ اشاعت جون 14, 2010
حقوق الزوجین ::::: بیوی کے خاوند پر حقوق ::::: thumbnail

حقوق الزوجین ::::: بیوی کے خاوند پر حقوق :::::



 ::::: حقوق الزوجین :::: میاں بیوی کے ایک دوسرے پر حقوق :::::
::::: بیوی کا رُتبہ و حیثیت :::::
بلا شک ”’خاوند جی”’ کو اللہ تعالیٰ نے بیوی پر برتری اور افضلیت عطاء فرمائی ہے ، اپنے کلام پاک میں اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زُبان مبارک سے خاوند کو بیوی کا مالک و آقا قرار دِیا ہے ، لیکن اُسے یہ اجازت نہیں دی کہ وہ اپنی اِس برتری کو جب ،جہاں اور جیسے چاہے اِستعمال کرتا پھرے ، جِس خالق و مالک نے جیسے چاہا خاوند کو برتری عطاء فرمائی ،اِسی خالق و مالک نے جیسے چاہا خاوندکو اپنی طرف سے دی گئی برتری کے استعمال کے لیے حد بندی کر دی ، اور وہ اللہ ہے جو اکیلا خالق ہے اور اُس کے عِلاوہ ہر کوئی اُس کی مخلوق ہے ، اور خالق اپنی مخلوق کے بارے میں کِسی بھی دوسری مخلوق سے بڑھ کر یقینی عِلم رکھنے والا ہے اور زبردست حکمت والا ہے ،
پس اپنی حکمت سے اُس نے خاوند کو عظمت دی اور اپنی حکمت سے اُس کے لیے حدود مقرر فرمائیں اور اپنی کتاب میں اُن کو ذِکر فرمایااور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زُبان مُبارک سے جب چاہا اُن حدود کو بیان کروایا ،
خاوند حضرات اپنی برتری کی سرشاری میں یہ مت بھولیں کہ اُنکے خالق و مالک نے اُنہیں برتری عطاء فرمانے سے پہلے اُنہیںیہ بھی بتا یا ہے کہ ( وَلَھُنَّ مِثلُ الَّذِی عَلِیھِنَّ بِالمَعرُوفِ )( اور عورتوں کے لیے بھی ویسا ہی (حق) ہے جیسا کہ اُن پر (مَردوں کا حق )ہے ) اور پھر فرمایا ( ولِلرِّجَالِ عَلِیھِنَّ دَرجۃٌ) ( اور ( اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہے کہ ) عورتوں پر مَردوں کا درجہ( بلند ) ہے ) سورت البقرۃ/آیت ٢٢٨
اور خاوند کے لیئے حُکم فرمایا( و عاشِرُوھُنَّ بِالمَعرُوفِ ) ( اور اُن کے ساتھ نیکی والا رویہ رکھتا ہوئے زندگی بسر کرو ) سورت النساء /آیت٤،
عاشر کا لفظیٰ معنی ::::: مل جل کر زندگی بسر کرنا بنتا ہے ، اور میل جول بُرائی اور ظُلم والا بھی ہوتا ہے اور نیکی اور بھلائی والا بھی ، اللہ تعالیٰ نے خاوندوں کو یہ حُکم دِیا کہ اپنی بیویوں کے ساتھ نیکی ، بھلائی اور خیر والی زندگی بسر کریں ، نہ کہ بُرائی اور ظُلم والی ، یہ ایک عام اجمالی حُکم ہے جو زندگی کے ہر پہلو کو ڈھانپ لیتا ہے ، اورمزید وضاحت کے ساتھ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے احکام صادر فرمائے ، آئیے اُن کا مُطالعہ کرتے ہیں ،
::::: خاوند پر بیوی کے حقوق:::::
:::::پہلا حق ::: بیوی کا مہر ادا کرنا :::::
اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ کا حُکم ہے (وَآتُوا النَّسَاء صَدُقَاتِہِنَّ نِحلَۃً)( اور بیویوں کو اُن کا مہر ادا راضی خوشی ادا کرو) سورت النساء /آیت ٤ ،
اور مزید حُکم ہے (فَمَا استَمتَعتُم بِہِ مِنہُنَّ فَآتُوہُنَّ اُجُورَہُنَّ فَرِیضَۃ)( اور جو تُم نے اُن سے(جنسی) لذت و فائدہ حاصل کیا ہے اُس کے لیے اُن کی قیمت (مہر) ادا کرو ، یہ( تُم پر) فرض ہے ) سورت النساء /آیت ٢٤،
اور مزید حُکم فرمایا (فَانکِحُوہُنَّ بِاِذنِ اَہلِہِنَّ وَآتُوہُنَّ اُجُورَہُنَّ بِالمَعرُوف)( اور عورتوں سے اُن کے گھر والوں کی اجازت سے نکاح کرو اور اُن عورتوں کو اُن کی قیمت معروف طریقے پر ادا کرو) سورت النساء /آیت ٢٧
عورت اپنے نکاح کو جو مہر مقرر کرے اور جِس پر اُس سے نکاح کرنے والا اتفاق کر لے وہ مہر اُس عورت کا خاوند پر حق ہو جاتا ہے ، ہم بستری ہو چکنے کی صورت میں وہ خاوند وہ مہر ادا کرنے کا ذمہ دار ہے ، فوراً یا بعد میں جیسے بھی نکاح سے پہلے اتفاق ہوا تھا ۔
::::: اہم فوائد ::::: اُوپر ذِکر کی گئی آیات میں سے دوسری آیت مکمل پڑہی جائے تو ”’ متعہ ”’ کا حرام ہونا ثابت ہوتا ہے ، اور آخری آیت کورٹ میرج اورکِسی عورت کا اپنے گھر والوں کی اِجازت کے بغیر نکاح کرنے کو حرام قرار دینے کے دلائل میں سے ایک ہے ،
::::: دوسرا حق ::::: خاوند بھی خود کو بیوی کے لیے صاف سُتھرااور بنا سنورا رکھے :::::
اُوپر بیان کی گئی دو میں سے پہلی آیت مُبارکہ کی تفسیر میں ، مُفسرِ قُران عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے ::: ( مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں اپنی بیوی کے لیے خود کو بنا سنوار کر رکھوں جیسا کہ میں یہ پسند کرتا ہوں کہ وہ میرے لیے بنی سنوری رہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ( وَلَھُنَّ مِثلُ الَّذِی عَلِیھِنَّ بِالمَعرُوفِ )( اور عورتوں کے لیے بھی ویسے ہی (حق) ہے جیسا کہ اُن پر (مَردوں کا حق ہے ) ) تفسیر ابن کثیر ، سورت البقرۃ / آیت ٢٢٨ ،
::::: تیسرا حق ::: نرمی والا رویہ رکھے اور اُسے (بلا حق ) تکلیف اور اذیت نہ پہنچائے :::::
بیوی کے حقوق میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حُکم کی نافرمانی کے عِلاوہ اگر کِسی اور معاملے میں اُس سے کوئی غلطی ، کوتاہی وغیرہ ہوتی ہو تو خاوند اُسکے ساتھ نرمی والا رویہ رکھے اُس پر سختی نہ کرے اور زُبان یا ہاتھ سے یا کِسی بھی طور اُسے دُکھ یا اذیت نہ پہنچائے، اور صبر کرتے ہوئے اُسے سمجھاتا رہے ، اور اُسکی غلطیوں کوتاہیوں پر صبر کرنے کےلیے اُسکی نیکیوں اور اچھائیوں کی طرف توجہ کرے ، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حُکم دِیا ( لَا یَفرَک مُؤمِنٌ مؤمنۃٌ اِن کَرِہَ مِنہَا خُلُقًا رَضِی مِنہَا آخَرَ ) ( کوئی اِیمان والا (خاوند) کِسی اِیمان والی (بیوی) کو غُصہ(و غم) نہیں دِلاتا ، اگر اُس (بیوی )کا کوئی کام خاوند کو نا پسند ہو تو کوئی دوسرا کام پسند بھی ہو گا) صحیح مُسلم / حدیث ١٤٦٩ /کتاب الرضاع / باب ١٨ ،
اور جیسا کہ ایک دفعہ ایک صحابی رضی اللہ عنہُ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ::: اے اللہ کے رسول ہماری بیویوں کا ہم پر کیا حق ہے ؟ ::: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اَن تُطعِمَہَا اِذ طَعِمتَ وَتَکسُوَہَا اِذا اکتَسَیتَ او اکتَسَبتَ ولا تَضرِب الوَجہَ ولا تُقَبِّح ولا تَہجُر اِلا فی البَیتِ ) ( (بیوی کا حق )یہ ہے کہ جب تُم کھاؤ تو اُسے بھی کِھلاؤ اور جب تُم (نئے) کپڑے پہنو یا کمائی کرو تو اُسے بھی پہناؤ ، اور نہ اُسکے چہرے پر مارو ، اور نہ اُسکے لیے (کچھ) بُرا ہونے کی دُعاء کرو ، اور نہ ہی گھر سے باہر کہیں اُسکو خود سے الگ کرو )[/SIZE] سُنن ابی داؤد /حدیث ٢١٤٢ /کتاب النکاح /باب ٤٢، مُسند احمد /حدیث ٢٠٠٢٥ / حدیث حکیم بن معاویہ /پہلی روایت ، سنن ابن ماجہ / حدیث ١٨٥٠ /کتاب النکاح/ باب٣،اِمام الالبانی نے کہا حدیث حسن صحیح ہے ۔
مضمون جاری ہے ،
گذشتہ سے پیوستہ
::::: چوتھا حق ::: اُسے دِینی معاملات (اللہ کی توحید ، طہارت و نجاست ، حلال و حرام جائز ناجائز وغیرہ ) سِکھائے ، اور اُن کے مُطابق زندگی بسر کرنے میں اُس کی مدد کرے :::::
جی ہاں ، یہ بھی بیوی کے حقوق میں سے ہے کہ خاوند اُس کی دینی تعلیم و تربیت میں واقع کمی پورا کرے ، لیکن ،،،،،افسوس ، صد افسوس کہ آج کتنے مُسلمان مَرد ایسے ہیں جو دادا تک بن جاتے ہیں لیکن اپنے دِین اِسلام کے وہ احکام بھی ٹھیک طور پر نہیں جانتے جِن کو جاننا اُن پر فرض ہے ، چہ جائیکہ وہ کِسی اور کو سِکھائیں، دُنیا داری کا ہر کام ، یا یقینا وہ کام جِس میں کوئی فائدہ متوقع ہو ضرور سِکھایا جاتا ہے ، لیکن دِین سیکھنے اور سِکھانے کے لیے نہ فُرصت ہے اور نہ ہی ضرورت محسوس کی جاتی ہے ، اگر کبھی کوئی مسئلہ آن پڑا تو مولوی زندہ باد ، جو کہہ دے گا کر لیں گے ، کیا ضرورت ہے دردِ سر لینے کی ، اِنّا لِلِّہِ و اِنِّا اِلیہِ راجِعُون ، اللہ تعالیٰ ہم سب کی اصلاح فرمائے ( اِس موضوع پر کچھ بات ”’ قیامت کی نشانیوں ”’ والی مجلس میں ہو چکی ہے ) ، تو یہ بیوی کے حقوق میں سے ہے کہ اُسے اللہ کی توحید اور اُس کے دِین ، نہ کہ لوگوں کے ”’ مذاہب و مسالک”’ کی تعلیم و تربیت دے ،
جو اللہ پر اِیمان لائے ہیں اُن کے لیے اللہ تعالیٰ کا حُکم ہے ( یَآ اَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا قُوا اَنفُسَکُم وَاَہلِیکُم نَاراً وَقُودُہَا النَّاسُ وَالحِجَارَۃُ ) ( اے وہ لوگو جو اِیمان لائے ہو اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو (جہنم کی ) آگ سے بچاؤ ( وہ ایسی آگ ہے ) جِس کا ایندھن اِنسان اور پتھر ہیں ) سورت التحریم /آیت ٦ ،
اللہ کی ناراضگی ، اللہ کے عذاب ، جہنم کی آگ سے اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو بچانے کے حُکم پر عمل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اِنسان اللہ کی توحید کا ، اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کا ، صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی سمجھ کے مُطابق عِلم حاصل کرے ، اُسکا قولی اور عملی طور پراِقرار کرے اور اُس پر عمل کرے ، کیونکہ جہنم کی آگ سے بچنے کا اِس کے عِلاوہ اورکوئی ذریعہ نہیں ، کہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غیر مشروط اور صحابہ کے فہم کے مُطابق تابع فرمانی کی جائے ۔
::::: پانچواں حق ::: بیوی کو گُناہوں سے بچائے رکھنا ، اُس کی عِزت و عِفت کی حفاظت :::::
عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنھما کا کہنا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سُنا کہ ( کُلُّکُم رَاع ٍ وَکُلُّکُم مسؤولٌ عن رَعِیَّتِہِ الاِمَامُ رَاع ٍ ومسؤولٌ عن رَعِیَّتِہِ وَالرَّجُلُ رَاع ٍ فی اَہلِہِ وہو مسؤولٌ عن رَعِیَّتِہِ ،،،،،)( تم میں ہر کوئی محافظ اور ذمہ دارہے ، اور ہر کِسی سے اپنی اپنی رعایا (یعنی جِس جِس کی نگرانی و حفاظت اُس کے ذمے تھی ) کے بارے میں پوچھا جائے گا ( یعنی اُن کے حقوق کی ادائیگی اور اُنکے کچھ کاموں کے بارے میں اِس نگران و محافظ سے پوچھ ہو گی اور وہ دُنیا اور آخرت میںجواب دہ ہے )،اِمام ( دِینی اور دُنیاوی راہنما و حُکمران) اپنی رعایا کا ذمہ دار ہے اور اُسکے بارے میں اُسے پوچھا جائے گا ، مَرد اپنے گھر والوں کا ذمہ دار ہے اوراپنی رعایا (یعنی گھر والوں ) کے بارے میں جواب دہ ہے،،،،، ) صحیح البخاری / حدیث٨٥٣ /کتاب الجمعۃ / باب ١١ ( مکمل حدیث ”’خاوند کے حقوق ”’ میں حق ٦میں ذِکر کی گئی ہے)
چونکہ مَرد اپنے گھر والوں کے اعمال کے بارے میں جواب دہ ہوگا لہذا اُس کے گھر والوں کا اُس پر حق بنتا ہے کہ وہ اُن کو گناہوں سے بچائے اور اُن کی عِزت و عِفت کی حفاظت کرے ، اور بیوی گھر والوں میں سب سے پہلی ہوتی ہے ۔
مضمون جاری ہے

اس پر تبصرہ کریں

ٹیگز:،, آخرت, آگ, آیات, اتفاق, اجازت, احمد, احکام, احکامات, اصلاح, اعمال, افسوس, الزوجین, اللہ, اللہ تعالیٰ, اور, اِسلام, اہم, باب, بات, برتری, بُرائی, بیان, بیوی, تعلیم, توجہ, توحید, تکلیف, جواب, جہنم, حد, حدیث, حرام, حسن, حفاظت, حق, حقوق, حلال, حلال و حرام, حکیم, حیثیت, خالق و مالک, خاوند, خیر, دینی, ذریعہ, رسول, رسول اللہ, رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم, روایت, زندگی, سختی, صبر, صحابی, صلی اللہ علیہ وسلم, صورت, ضرورت, طریقے, عذاب, عظمت, عمر, عمل, عملی, عورت, عورتوں, عِزت, غلطی, غلطیوں, فائدہ, فرض, قیامت, لذت, مالک, مبارک, مجلس, محافظ, مدد, مذاہب, مولوی, میاں, میاں بیوی, میل, میں, ناجائز, نکاح, نیکی, نیکیوں, و, پاک, پتھر, چہرے, کا, کام, کتاب, کثیر, کلام, کمائی, کچھ, کی, کے, گھر, ہاتھ, ہوا

اس سے ملتی جلتی تحاریر



Comments are closed.

No comments:

Post a Comment