Sunday, 27 February 2011

HALAAL O HARAAM


حلال وحرام


اسلامی معیشت، مادی تصورات اور عقیدہ اسلامی کی طرز فکر


اِسلامی تہذیب اپنے عروج وزوال کی منزلیں طے کرتی ہوئی جس مرحلے پر پہنچ چکی ہے وہ اِسلام کا خطرناک ترین دَور ہے۔ دورِ حاضر سے ماقبل ادوار میں بھی اِسلامی فکر وعمل سے اِنحراف رہا ہے لیکن جو انحراف موجودہ دَور کے حکمرانوں اور افراد میں نظر آرہا ہے وہ پچھلے ادوار کی کسی شاہی، استبدادی حکومت اور بگڑے ہوئے مسلم معاشرے میں نظر نہیں آتا۔

اِسلام سے منحرف دو طبقے:

اِسلامی تاریخ کے ہر دَور میں اِنسانی نفسیات نے شریعتِ الٰہی سے فرار کیلئے چور دروازے ڈھونڈ نکالے لیکن اُن کی اکثریت گناہ کو گناہ سمجھتی تھی۔ اگرچہ وُہ نفس کی تسلی کیلئے کچھ عُذر، حیلے اور تاویلیں تراشتے تھے مگر اُس کے پسِ منظر میں بھی خوفِ الٰہی کا تصور ہوتا تھا جس کی وجہ سے عُذروں کی ضرورت پیش آتی تھی۔ اِس کے مقابلے میں موجودہ مسلم معاشرہ دن بِدن فکری زوال کا شکار ہے۔ گناہ کو گناہ سمجھنا تو ایک طرف رہا وہ اِس موضوع پر بات کرنے اور سوچنے کو بھی تیار نہیں۔ گناہ پر غور کرنا، اُس پرکڑھنا اور اُس سے اجتناب کی تدبیریں سوچنا یہ سب کام اُن کی شخصیتِ ذہنی وفکری کے کسی خانے میں فِٹ نہیں ہوتا___ شریعت سے کامل اعراض، سرد مہری، بے حسی، بے رغبتی اور ٹھنڈے پتھر کی طرح سخت جُمود ہے___ سیاست، معیشت، شوبز، کھیل، لائف سٹائل .... غرض زندگی کے ہر موضوع پر گرم بحث ہو سکتی ہے لیکن اِسلامی فکر وعمل کے موضوع پر بحث تو کُجا، یہ گفتگو کا موضوع ہی نہیں بن سکتا۔ اِسلام پر بات چھڑتے ہی لبوں پر مُہر لگ جاتی ہے اور ذہن کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ یہ مادیت کا خطرناک ترین سیلاب ہے جو آخرت اور بامقصد زندگی کو تباہ کیے بغیر اپنی جگہ نہیں بنا سکتا۔ زندگی کا کوئی عمل خالص آخرت کے حصول کیلئے بھی کیا جا سکتا ہے؟ دُنیا کا کوئی نقصان خالص قیامت وحشر کے ڈر سے بھی برداشت کیا جا سکتا ہے؟ یہ سوچ موجودہ مادہ پرست مسلمانوں کے فکر وعمل سے یکسر خارج ہو گئی ہے۔

اِسلام، گناہ ثواب اور نیکی بدی کے تصور سے مکمل ذہنی وفکری بائیکاٹ کرنے والوں کے مقابلے میں ایک اور طبقہ بھی ہے جو پہلے طبقے سے بھی دس قدم آگے ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو اِسلامی فکر وعمل پربحث چھڑتے ہی خم ٹھونک کر میدان میں اُترتا ہے اور پھر اِسلامی تعلیمات کے ایک ایک جزءمیں کیڑے نکالے جاتے ہیں۔ اِسلام کے عملی مسائل تو ایک طرف رہے عقیدہءآخرت، قبر، قیامت اور جنت دوزخ کا مذاق اُڑایا جاتا ہے۔ شریعت کے مسلّمہ قطعی قوانین کی بے حرمتی کی جاتی ہے۔ آخرت کی سوچ رکھنے والوں کو گالیوں اور طعن وتشنیع سے نوازا جاتا ہے۔ یہ لوگ نہ صرف خالص مادہ پرست ہیں بلکہ پچھلے طبقے کے مقابلے میں زیادہ جہالت، تشکیک، ذہنی انتشار اور ایمان ویقین سے محرومی کا شکار ہیں۔

موجودہ دَور میں ضرورت ہے کہ مادیت جس زور سے حملہ کر رہی ہے اُسی زور سے اُس کا دفاع کیا جائے۔ اِسلام سے منحرف اِن دونوںطبقوں کا شرعی حکم تلاش کیا جائے۔ زندگی کے ہر ہر عمل کو عقیدہ کی اساس اور بنیاد پر تشکیل دیا جائے۔ کیونکہ ایک سادہ گناہ اور استکبار میں فرق ہوتا ہے۔ ایک عام معصیت ونافرمانی والی زندگی اور شریعت وآخرت سے کامل اِعراض والی زندگی میں فرق ہوتا ہے۔ موجودہ دَور میں مسلم معاشرے کے افراد میں وہ ذہنی بنیادیں منہدم ہو گئی ہیں جن کی وجہ سے وہ گناہ وثواب، اچھے اور بُرے کی بحث میں واقع ہوتا تھا۔ مسلم افراد کی سوچ بھی بدل گئی اور سوچنے کا طریقہ بھی بدل گیا۔ فکر بھی بدل گئی اور طرزِ فکر بھی بدل گئی۔ اب ہمیں نئے سرے سے ہر موضوع کو چھیڑنا ہوگا۔ اور وُہ اساس اور بنیاد تعمیر کرنی ہوگی جس کی وجہ سے زندگی کے ہر ہر عمل کو اِسلام کی روشنی میں دیکھنے کی عادت پیدا ہو۔ گناہوں کے مقابلے میں قدم لڑکھڑا بھی جائیں تو بھی گناہ کی اذیت کا شدید ذہنی تاثر پیدا ہو۔

موجودہ گناہ، عقیدے کے بگاڑ پر مبنی ہیں:

اِسلامی تہذیب کا موجودہ بگاڑ فقط بدعملی، معصیت اور گناہوں کا بگاڑ نہیں بلکہ یہ عقیدہ، طرزِ فکر، رویے اور منبع جذبہ وعمل کا بگاڑ بھی ہے۔ حرام رزق پچھلے اَدوارمیں بھی کھایا جاتا تھا مگر اُس میں شرمندگی، ندامت اور مسلم سوسائٹی کی طرف سے نفرت کا ڈر ہوتا تھا۔ فحاشی وعریانی پچھلے زمانوں میں بھی تھی لیکن ایک مسلم فرد کے رگ وپے میں، دِل ودماغ میں اِس قدر نفوذ نہ تھا کہ فکر وعمل کی ساری قوتیں مادہ پرست بن جائیں اور آخرت کی سوچ کا کوئی راستہ باقی نہ بچے۔ مسلمان حکمران پچھلے ادوار میں بھی عیش وعشرت کے دلدادہ تھے مگر یہ بحث کبھی نہ کرنی پڑی کہ انسانی قوانین زیادہ افضل ومفید ہیں یا شرعی قوانین زیادہ بہتر اور لازمی ہیں۔ تعلیم وتربیت میں پچھلے اَدوار کے اندر جمود، بے عملی اور دُنیا داری رہی ہے لیکن اِس قدر پیٹ پرست اور شہوت پرست حیوان کبھی پیدا نہیں ہوئے جو موجودہ کالجز اور یونیورسٹیوں سے نکل رہے ہیں اور جن کی شخصیت، سوچ، علم وعمل، جذبہ وکردار کا ہر ہر گوشہ دُنیوی کیرئیر کی تعمیر اور اِسلام سے اِعراض اور تخریب کار ی پر مبنی ہے۔ گناہ کس وقت عقیدے کے بگاڑ پر مبنی ہوتا ہے اور کس وقت وہ فقط سادہ اور مجرد گناہ رہتا ہے۔ اِس کی تفصیلات تو آئندہ بیان میں ہوتی رہیں گی تاہم اِس قدر بتلانا ضروری ہے کہ کامل شریعت سے کامل اِعراض اور گناہ کے وقت افسوس کا نہ ہونا، شریعت کے مقابلے میں رائی کے دانے کے برابر تکبر کرنا، شریعت کے کسی ایک مسلّمہ قطعی اُصول کا مذاق اُڑانا اور آخرت سے صد فیصد دُوری اختیار کرنا ایسے اُمور ہیںجن کے متعلق کوئی شک وشبہ کی گنجائش نہیں کہ یہ امور عقیدے کے بگاڑ کہلاتے ہیں۔ عقیدہ اسلام وہ مذہبی تصورات ہوتے ہیں جو نہ غلطی پر مبنی ہوتے ہیں اور نہ غلطی کا احتمال رکھتے ہیں۔ یہ تصورات نہ شکوک وشبہات پر مبنی ہوتے ہیں اور نہ شکوک وشبہات کا احتمال رکھتے ہیں۔ اِن تصورات میں معمولی بگاڑ یا صد فیصد بگاڑ برابر ہوتا ہے۔ چنانچہ فرعون اور ابوجہل کی طرح تمام شریعت کو ٹھکرایا جائے یا کوئی مدینے کا منافق اللہ و رسول پر زبانی کلامی ایمان کے باوجود اِسلام کے کسی ایک قطعی لازمی امر کو نفرت، حقارت، استہزاءواستکبار کے ساتھ ٹھکرا دے۔ دونوں اِسلام کے تعلق سے یکسر خارج ہو جاتے ہیں۔ اِن کی کفر کی غلاظت میں مقدار کا تو فرق ہے لیکن اِن کی کفر کی نوعیت میں کوئی فرق نہیں۔

اِسلام کا ہر عمل عقیدے سے پیوست ہے:

اِسلام وہ واحد اور کامل دین ہے جس کا ہر ہر عمل، ہر ہر تعلیم اور شعبہ زندگی عقیدے کے ساتھ براہِ راست پیوست ہے۔ اِس دین میں سیکولر سیاست کا کوئی تصورنہیں، بے قید معیشت کا کوئی تصورنہیں، بے مقصد یا بے دین تعلیم کاکوئی جواز نہیں۔ مدر پدر نسوانی وجنسی آزادی کا کوئی تعلق نہیں۔ خالص دُنیوی ومادی تفریح کی کوئی صورت نہیں۔ اِسلام میں ہر ہر شعبہ زندگی اللہ کی ربوبیت، مالکیت، الوہیت، حاکمیت اور تصورِ آخرت کے ساتھ جکڑا ہوا ہے۔ چنانچہ ایک بظاہر دینی عمل بھی اُس وقت تک دِینی عمل قرار نہیں پا سکتا جب تک اُس کے پسِ منظر میں اللہ کی حاکمیت کا اقرار، اُس کی رضا کی خواہش اور آخرت کی طلب شامل نہ ہو۔ جب بظاہر دینی عمل، اللہ وآخرت کے تصور کے بغیر دینی قرار نہیں پا سکتا تو فلاح اِنسانی کے عمومی کام کس طرح اللہ وآخرت کی سوچ کے بغیر دینی قرارپا سکتے ہیں۔

اِسلامی معیشت اور حلال وحرام کا تصور:

اِسلامی معیشت ”حلال وحرام کے تصور“ پر مبنی ہے۔ جس طرح گناہ ثواب، نیکی بدی، اجر وعذاب خالص دینی اِسلامی اصطلاحیں ہیں۔ اِسی طرح حلال وحرام بھی خالص دینی اصطلاحیں ہیں۔ اِسلامی معیشت چاہے ملکی وقومی سطح کی ہو یا نجی وانفرادی سطح کی، چھوٹے اداروں کی ہو یا بڑے اداروں کی، حلال وحرام کے تصور میںجکڑی ہوئی ہے۔ مادہ پرست سرمایہ دارانہ نظام، لادین اشتراکیت اور سینکڑوں نام نہاد مسلمانوں کے نزدیک کاروبار صرف اور صرف دو ہی قسم کے ہوتے ہیں۔ منافع بخش کاروبار اور غیر منافع بخش کاروبار۔ اور اِس تقسیم کا حلال وحرام سے کوئی تعلق نہیں۔کتنے ہی لوگ ہیں جو علی الاعلان یہ کہتے ہیں کہ کوئی بھی کاروباری فیصلہ اچھا یا بُرا، نیک یا بدنہیں ہوتا بلکہ وُہ فقط عاقلانہ ہوتا ہے یا احمقانہ۔ عقلمند وُہی ہے جو موقع سے فائدہ اُٹھائے غلط یا صحیح کے چکر میں نہ پڑے۔ اور وہ شخص احمق ہے جو غلط صحیح میں پڑ کر سنہری موقع (گولڈن چانس) کو گنوا دے۔

اِسلام میں تصور حلال وحرام کے مطابق:

ہر وُہ چیز حلال ہے جس کو اللہ حلال قرار دے اور ہر وہ چیز حرام ہے جس کو اللہ حرام قرار دے چاہے وہ کام بظاہر کتنے ہی نفع بخش کیوں نہ ہوں۔ چاہے وہ کام بظاہر کتنے ہی دلچسپ کیوں نہ ہوں۔
اِسلام کی اِس تعریف میں سب سے زیادہ قابل غور بات یہ ہے کہ حلال وحرام کا تعلق ”اللہ تعالیٰ، مالک الملک“ کے ساتھ ہوتا ہے۔ کسی فرد، ذات، ادارے، پارلیمنٹ، قوم کی ذاتی خواہشات کے ساتھ نہیں ہوتا۔ اِسی طرح حلال وحرام کا خالص دنیوی معاشی نتیجہ ”نفع یا نقصان“ کے ساتھ نہیں ہوتا بلکہ اللہ کی رضا کی تکمیل اور اللہ کی حاکمیت کے اقرار کے ساتھ ہوتا ہے۔ جس میں انجام کے اعتبار سے دُنیا وآخرت کی کامیابی ہے اگرچہ بسا اوقات فوری طور پر خسارہ، نقصان بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔

حلال وحرام اِسلامی معیشت کی تفہیم وتنفیذ کا پہلا باب ہے۔ حلال وحرام کو سمجھے اور پختہ کیے بغیر اِسلامی معیشت اور غیر اسلامی معیشت میں فرق کرنا ممکن نہیں۔ اِس وقت جہاں جدید معاشی، زرعی، تجارتی اور صنعتی گوناگوں مسائل کا حل تلاش کیا جا رہا ہے وہاں اِس چیز کی بھی ضرورت ہے کہ حلال وحرام کا تصور خوب اچھے طریقے سے ذہن نشین کرایا جائے۔ یہ ضروری ہے کہ قوم کو اسٹاک ایکسچینج میں شیئرز حاصل کرنے کا حکم بتلایا جائے، افراطِ زر سے قرضوں پر واقع ہونے والے اثرات کا حکم بتلایا جائے۔ زراعت، صنعت اور تجارت میں استحصالی قوتوں کے نت نئے حربوں کا حکم بتلایا جائے، قومی وبین الاقوامی تجارت میں مضر اُمور کی نشاندہی کی جائے، کسٹم اور ٹیکس کے نظام میں فاسد عناصر کی نشاندہی کی جائے۔ اِن سب اُمور کے ضروری ہونے کے باوجود قوم کی سب سے بڑی اور سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ اُن کوحلال وحرام کا اِسلامی تصور ازبر کرایا جائے۔ گناہ واستکبار کا فرق بتلایا جائے، اِعراض وانابت کا فرق بتلایا جائے، دُنیا وآخرت کا فرق بتلایا جائے۔

حلال وحرام کے دو اَساسی اُصول:

اِسلام میں حلال وحرام کو سمجھنے کیلئے دو چیزوں کو سمجھنا ضروری ہے:

ا) حلال وحرام کا تعلق فقط اور فقط اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے۔ حلال کمانے کا اُس وقت تک کوئی فائدہ نہیں جب تک اللہ کی رضا کی تکمیل کی خواہش نہ ہو۔ حرام سے بچنے کا اُس وقت تک کوئی فائدہ نہیں جب تک اللہ کی ناراضگی کا خوف نہ ہو۔ یعنی حلال وحرام کا براہِ راست تعلق اللہ کی ذات سے ہے، شریعت وقانون سازی کے اعتبار سے بھی اور اجر وثواب یا گناہ وعقاب کے اعتبار سے بھی۔ ایک شخص رشوت سے فقط اِس لئے بچتا ہے کہ یہ نیچ اور گھٹیا حرکت ہے، حقدار حق سے محروم ہو جاتا ہے، پیارے ملک پاکستان کی جڑیں کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔ ایسے شخص کو رشوت سے بچنے کا کوئی ثواب نہیں۔ اِس شخص کو ثواب اُس وقت ملے گا جب وہ اولاً یہ سوچے کہ رشوت حرام ہے۔ اِس پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں۔ آخرت میں مجھے سزا ہوگی۔

ب) حلال وحرام کا تعلق خالص اور خالص آخرت کی طلب کے ساتھ ہے۔ یہ چیزیں بھی اوپر والے اُصول کی دوسری تعبیر ہے۔ یعنی حلال کو صرف اِس لئے نہ کمایا جائے کہ وہ خوب نفع آور ہے اور حرام سے صِرف اِس لئے نہ بچا جائے کہ اُس میں نفع کی اُمید کم ہے۔ یا حلال کی رغبت فقط اِس وجہ سے نہ ہو کہ یہ قانوناً ومعاشرہ رائج ہے اور حرام سے بے رغبتی فقط اِس وجہ سے نہ ہو کہ یہ قانوناً منع ہے۔

اِس کی مثال اِس طرح ہے کہ بعض لوگ ”لاٹری“ سے بچتے ہیں صِرف اِس وجہ سے کہ وہ اِس کو غیر عاقلانہ، احمقانہ فعل سمجھتے ہیںجس میں نفع کی اُمید نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ لاٹری سے بچنے کا یہ تصور خالص مادی اور دُنیوی ہے جس پر کوئی ثواب نہیں۔ لاٹری سے بچنے کا ثواب اس وقت ہے جب اِس کو گناہ سمجھا جائے۔ اِس کو حرام سمجھا جائے اور آخرت کے خوف کے تحت اِس کو رد کر دیا جائے۔

اِسلامی معیشت: حلال وحرام کی دَو قِسمیں:

اِسلامی معیشت میں حلال وحرام کو دَو قسموں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

(1 اِسلامی معاشی قانون میں حلال وحرام۔

(2 اِسلامی معاشی اخلاق میںحلال وحرام۔

اِسلامی معاشی قانون میں جو چیزیں حلال وحرام ہیں وہ اِسلامی تہذیب کا خاصہ ہیں۔ دیگر تمام عالمی تہذیبوں میں اُن کے ممنوع ہونے اور غیر ممنوع ہونے کا کوئی تصور نہیں۔ اور جو چیزیں اِسلامی اخلاق میںحلال یا حرام ہیں وہ ساری دُنیا کے اخلاقی اصول کے مطابق ممنوع یا غیر ممنوع ہیں۔

اِسلام میں معاشی قانون میں درج ذیل فقط چیزیں حرام ہیں جو دُنیا کی باقی تمام تہذیبوں میں غیر ممنوع ہیں۔

(1 سُود (2 جُوا اور اُس کی تمام جدید شکلیں

(3 مُردار، سور، خون کی خرید وفروخت (اکل وشرب کیلئے)

(4 مخدرات .... تمام نشہ آور اُمور جیسے شراب، ہیروئن، چرس وغیرہ

(5 فحش لٹریچر .... زرد صحافت، رسائل، ناول، ڈائجسٹ، فحش فنون لطیفہ، ڈرامے، فلمیں، نغمے، موسیقی

(فحش ایک قرآنی علمی، ٹھوس اِصطلاح ہے جو ہر اُس چیز کو قانوناً حرام قرار دیتی ہے جو زنا سے قربت کا ذریعہ اور وسیلہ بنے چاہے یہ قربت ذہنی اعتبار سے ہو یا عملی اعتبار سے)۔

اِسلامی معاشی اخلاق میں جو چیزیں حلال یا حرام ہیں وہ دُنیا کے عالمی تہذیبی اخلاق کے مطابق ہیں۔ مثلاً ملاوٹ، دھوکہ، لوٹ کھسوٹ، کسی کا ناحق مال دبانا، جھوٹ سے ناقص مال بیچنا، رشوت، یتیم کا مال کھانا، قرضے کی واپسی میں ٹال مٹول، بغیر ڈیوٹی یا ناقص ڈیوٹی کے بدلے مکمل تنخواہ وصول کرنا، صارفین کو دِل فریب تجارتی سکیموں کے ذریعے دامِ فریب میں پھنسانا، محکمانہ دفاتر میں تاخیری حربے اور رشوت کی گرم بازاری، غبن اور قرضوں کی خُرد بُرد، عوام کی ضرورت کے وقت ذخیرہ اندوزی، صنعتی وتجارتی اجارہ داریاں اور قیمتوں پر ظالمانہ کنٹرول، اِسی طرح جاگیرداروں کامزارعین کی مکمل معاشی زندگی پر سفاکانہ کنٹرول، سیاست میں غنڈہ گردی کے عناصر اور لالچ اور دھونس کے عوامل، مزدوروں کا استحصال، سامانِ تعیش اور شادی وبیاہ میں لاکھوں کروڑوں کا اِسراف .... یہ تمام اُمور بین الاقوامی اخلاقی اصولوں کے خلاف ہیں اور دُنیا کا ہر مذہب، قوم، باشعور انسان اِن اُمور کو قبیح اورناپسندیدہ قرار دیتا ہے۔ اور ترقی یافتہ ممالک میں اِن اخلاقی اصولوں کی پاسداری کیلئے مناسب قانون اور اُس کی علمبرداری بھی موجود ہے۔

حلال وحرام قانونی اعتبار سے ہو یا اِخلاقی اعتبار سے، اُس کے متعلق دو باتوں کا جاننا ضروری ہے۔

(1 اِسلام میں دونوں قسم کے حلال وحرام کی قباحت یکساں ہے۔ اُن کا گناہ وثواب، اُن کی اُخروی ودُنیوی قباحت، اُن پراللہ کی محبت یا ناراضگی بالکل برابر درجے کی ہیں۔ چنانچہ جو شخص قانوناً جائز کاروبار کرتا ہے لیکن اللہ کے نزدیک حرام کاروبار کرتا ہے تو اُس کے مقہور ومغضوب ہونے میں کوئی شک نہیں۔

(2 جو شخص اِسلامی اخلاق کے حلال وحرام کا خاص خیال رکھتا ہے۔ لیکن اُس کی ذہن کی رسائی فقط ملی، قومی محبت اور انسانیت کی خیر خواہی پر مبنی ہے۔ یعنی وہ حرام کردہ اُمور سے فقط قومی اور اِنسانی مصلحت کے تحت اجتناب کرتا ہے تو یہ شخص اِسلامی اخلاق کا حامل نہیں کیونکہ اِسلامی اخلاق ہر قبیح اور ناپسندیدہ حرکت سے اجتناب کو اُس وقت قدر اور وقعت کی نگاہ سے دیکھتا ہے جب اولاً اُس اخلاق کے پس پردہ اجر وثواب، رضاءالٰہی، حاکمیت الٰہی کا اعتراف، توجہ وانابت، آخرت کی طلب وجستجو شامل ہو۔

اِسلامی معیشت کے دو واجبات:

زکوٰت اور وراثت کی شرعی تقسیم:

اِسلامی معیشت میں اکثر اُمور کا تعلق حلال وحرام یا جائز ناجائز کا ہے لیکن دو چیزیں ایسی ہیں جو اِسلامی معیشت میں وجوب کا درجہ رکھتی ہیں۔ یعنی دو چیزوں کو بجا لانا اُنکے مخاطبین پر لازم ہے۔

ا) زکوٰت وعشر، صدقہ الفطر

ب) وراثت کی شرعی تقسیم

زکوٰت گلہ بانی،مال مویشی والوں پر بھی لازم ہے اور تمام دکاندار تاجروں پر بھی لازم ہے۔ اِسی طرح عشر اہل زراعت پر واجب ہے۔ میت کے ترکے کو شرعی تقسیم کے مطابق حقداروں تک پہنچانا ہر مومن پر لازم ہے۔

جس طرح ایک مومن پر حلال وحرام کی تمیزکرنا لازم ہے۔ اِسی طرح ہر مومن پر اِن دو واجبات پر ایمان لانا بھی لازم ہے کہ یہ دو اُمور ”اللہ تعالیٰ“ نے شریعت بنا کر آسمان سے نازل کیے۔ اِن دَو اُمور کے بجا لانے پر ثواب ہوگا اور اُن کے ترک پر اللہ تعالیٰ عذاب دیگا۔ آج اُمت مسلمہ کا بہت بڑا طبقہ اِن شرعی واجبات سے غافل ہے۔

لوگ اول تو نصاب زکوٰت کی تعیین کی غرض سے اثاثہ جات واموال تجارت کا حساب کتاب نہیں رکھتے۔ اگر کوئی حساب کتاب رکھتا ہے تو زکوٰت کی ادائیگی میں سو حیلے بہانے بناتا ہے۔ چولستان اور روہی کے رہنے والے سینکڑوں / ہزاروں مویشیوں کے مالک ہوتے ہیں۔ لیکن اُن کی جہالت کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے زکوٰت کا لفظ بھی شاید کبھی سنا ہو۔ انہیں کبھی کوئی دیندار شخص نظر آجائے تو اُسے کسی اور دُنیا کی مخلوق سمجھتے ہیں۔ زکوٰت سے زیادہ لوگ وراثت کی شرعی تقسیم سے غافل ہیں۔ کوئی گھرانہ ایسا نظر نہیں آتا جو میت کے ترکے کو شرعی اصولوں کے مطابق تقسیم کرتا ہو۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے مالِ وراثت کے اُصول بیان کرتے ہوئے واضح لفظوں میںاپنی حاکمیت اور حدود الٰہی کی پاسداری جتلائی ہے۔

زکوٰت اِسلام کے ارکان میں سے ایک رُکن ہے۔ کسی اللہ سے تعلق رکھنے والے کا نماز و زکوٰت سے عاری نظر آنا ناقابل تصور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نماز و زکوٰت کو بے شمار مقامات پر اکٹھے ذکر کیا۔ پھر زکوٰت صرف اللہ کی ناراضی اور خوشی سے ہی متعلق نہیں۔ بلکہ اللہ کی طرف سے مسلم ریاست کی غریب عوام کیلئے ایک فلاحی پروگرام ہے۔ زکوٰت کا نظام سرمایہ دارانہ نظام کی تمام خرابیوں کاحل ہے اور وراثت کا شرعی نظام جاگیردارانہ نظام کی موت ہے۔ اللہ کی شریعت آخرت کے ماننے والوں پر رحمت بھی ہے اور اُس کے نتائج وثمرات دُنیا میںبھی مفید ہیں۔

حلال وحرام میں عقیدہ جاتی بنیادیں:

اِنسانی زندگی و شخصیت ایک ناقابل تقسیم اِکائی ہے۔ اس کے تمام فکری واساسی، ذہنی وعملی شعبے ایک دوسرے کیساتھ باہم گتھم گتھا ہیں۔ زندگی کا ہر ہر شعبہ دیگر ذہنی وعملی شعبوں کے ساتھ مکمل طور پر مخلوط ویکجان (مكسڈ اپ) ہے۔ چنانچہ زندگی کا ایک شعبہ تباہی کا شکار ہو تو اُس تباہی کے آثار وعوامل زندگی کے باقی شعبوں میں بھی ضرور ہوتے ہیں۔ اِسی طرح فکر پراگندہ ہو تو عمل بھی منتشر ہوتا ہے۔ عمل تباہ کن ہو تو اُس کے پس پردہ فکر وسوچ بھی انتہائی ردی اور نکمی ہوتی ہے۔ اِسی اُصول کی روشنی میں حلال وحرام کی مابعد الطبیعاتی بنیادوں کو سمجھا جا سکتا ہے۔ حلال وحرام کا مُنکر اِسلامی نظامِ حیات کے سرچشموں کا منکر ہوتا ہے۔ حلال وحرام کا دشمن اِسلامی معاشی عقائد کا دشمن ہوتا ہے۔ حلال وحرام سے غافل انسان کائنات و الٰہ کے باہمی رشتوں سے غافل ہوتا ہے۔ حلال وحرام میں متساہل، صفات الٰہی وعبدیت اِنسانی کی تفہیم میں متساہل ہوتا ہے۔ حلال وحرام کا کافر، اللہ کی صفت حاکمیت کا کافر ہوتا ہے۔

یوں تو اللہ کا تصور .... زندگی کے ہر شعبہ کے حوالے سے عمومی اور خصوصی دونوں اعتبار سے بیان ہوا ہے۔ لیکن ہم ذیل میں خالص معاشی اعتبار سے اللہ کی صفات، کائنات کی مقصدیت، اِنسانیت کا عجز، کائنات وانسانیت کا انجام و مسئولیت اور حاکمیتِ الٰہیہ کو بیان کریں گے۔

اِسلامی معیشت کی عقیدہ جاتی بنیادیں یا اسلامی فکر وعمل کے سرچشمے درج ذیل اُصول واساسی نظریات ہیں۔ جو کہ ایک خاص نظم وترتیب کے ساتھ بیان ہو رہے ہیں۔

ا) اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کا خالق ہے اور اُن کی زندگی، نشوونما، رزق وموت وحیات

کا مالک ومدبر ہے:


ایک مادہ پرست حیوان نما انسان اور ایک باشعور، ذمہ دار انسان میں یہی پہلا اساسی اور جوہری فرق ہے کہ مادہ پرست نظامِ کائنات کو بلا خالق، بلامالک اور بلا مدبر کے ایک وسیع وعریض کھیل تماشا سمجھتا ہے۔ سورج، چاند، بارشیں، زمین کی روئیدگی، فصلوں کے پکنے میں سارے نظامِ عالم کی باہمی شدید ترین موافقت صرف اور صرف ایک گونگا، بہرہ بے مقصد کھیل ہے۔ جس میں انسان اپنی من مرضی، کھلی جنسی، اخلاقی، معاشرتی آوارگی اور قوت و طاقت کے ذریعے کمزور اِنسانیت کو لتاڑنے کیلئے پیدا کیا گیا ہے۔

حرام خور کی نفسیات میں پہلا اور اہم ترین بگاڑ یہیں سے جڑ پکڑتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ اپنا سب سے پہلا اور سب سے اہم تعارف ہی یہی کرتا ہے۔

الحمد للّٰہ رب العالمین

”تمام تر تعریفوں کی حقدار ذات فقط اللہ تعالیٰ ہے جو تمام مخلوقات کا خالق، مالک اور مدبر ہے“۔

ان ربکم اللّٰہ الذی خلق السماوات والارض فی ستہ ایام ثم استویٰ علے العرش یدبر الامر .... ذلکم اللّٰہ ربکم فاعبدوہ (یونس: ٣)

”بے شک تمہارا مالک تو وہ اللہ ہے جس نے تمام آسمانوں اور ساری زمین کو پیدا کیا، چھ دِنوں میں۔ پھر وہ (اقتدار وعظمت کے بلند ترین مقام) عرش پر مستوی ہوا۔ وہ (ساری کائنات ومخلوقات) کے اُمور کو (بالفعل) چلا رہا ہے (نہ اُس نے مخلوق سے بے پرواہی اختیار کی ہے اور نہ اپنا اقتدار دُوسروں میں تقسیم کیا ہے) .... یہی اللہ تمہارا معبود اور مالک ہے اور اُس کے سامنے اپنی عجز اور انکسار کی تمام مراسم ونیاز بجا لاؤ“۔

ب) اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کا روزی رساں ہے:

اگرچہ رب کے مفہوم میں پرورش، نگہداشت، دیکھ بھال اور زندگی کے تمام لوازمات داخل ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے مزید وضاحت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ساری مخلوق کا روزی رساں ہے۔ زمین کی سطح پر چلنے والا کوئی کیڑا، چرند، پرندہ، درندہ، اِنسان، تمام مخلوق اللہ کے عطا کردہ اور تقسیم کردہ رزق پر پَل اور بڑھ رہی ہے۔

وما من دابہ فی الارض الا علی اللّٰہ رزقھا (ھود: ٦)

”اور زمین میں جو بھی جانور ہے اُس کا رزق اللہ کے ذمے ہے“۔

وکاین من دآبہ لا تحمل رزقھا اللّٰہ یرزقھا وایاکم (عنکبوت: ٦٠)

”اور کتنے ہی جانور ہیں جوا پنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے۔ اللہ اُن کو بھی رزق دیتا ہے اور خاص تم (انسانوں) کو بھی“۔

اِس آیت کا مطلب یہ ہے کہ کئی جانور، پرندے ایسے ہیں کہ وہ اپنی خوراک کو اُٹھا کر ذخیرہ نہیں کر سکتے۔ روزانہ تازہ خوراک ڈھونڈتے ہیں۔ اِن جانوروں، پرندوں کی اللہ ہی ضروریات اور رزق پورا کرتا ہے۔ سمندر کی مچھلیاں، ہواؤں میں اڑنے والے پرندے، جنگل کے جانور۔ سب کو اللہ ہی پالتا ہے۔کبھی ایسا نہیں ہوا کہ یہ جانور بھوک کا شکار ہو کر مر گئے ہوں۔ اللہ کے کائناتی نظام ربوبیت میں کروڑوں انواع کی مخلوق شب وروز پَل بڑھ رہی ہے۔

ج) اللہ تعالیٰ ہی ساری انسانیت کو رزق دیتا ہے:

اگرچہ مخلوق کے مفہوم میں اِنسان داخل ہیں جن کی روزی اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ بار بار یہ ذکر کیا کہ اللہ ہی ساری انسانیت کا رزق رساں ہے۔

یایھا الناس اذکروا نعمت اللّٰہ علیکم ھل من خالق غیر اللّٰہ یرزقکم من السماءوالارض لا الٰہ ھو فانی تؤفکون (فاطر: ٣)

”لوگو! تم پر جو انعام اللہ نے کیے ہیں اُن کو یاد کرو۔ کیا اللہ کے علاوہ کوئی اور خالق بھی ہے جو تمہیں زمین وآسمان سے رزق دے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ لہٰذا تم کہاں اُلٹے جاتے ہو“۔

یعنی تمہارے اندر توحید وآخرت کا انکار کس طرح آگیا جبکہ تم مانتے ہو کہ اللہ ہی تمہارا خالق اور رازق ہے۔

د) اللہ تعالیٰ ہر ہر فرد کو رزق دے رہا ہے:

اِنسانیت کا رزق بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے اور ہر ہر فرد کا رزق بھی خاص اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ جس طرح کلیات اور نظام کو جانتا ہے اِسی طرح جزئیات، افراد اور نظام کے چھوٹے سے چھوٹے حصے کو بھی جانتا ہے انسانیت میں سے ہر ہر فرد .... عبداللہ، عبدالرحمن، عبدالشکور وغیرہ .... کو بھی الگ الگ مقرر کردہ رزق دے رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی خاص اور عام نظر سے کوئی الگ اور جُدا نہیں۔ اِس ضمن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے یہ مقولہ جات کتنے پیارے ہیں۔

الذی خلقنی فھو یھدین، والذی ھو یطعمنی ویسقین۔ واذا مرضت فھو یشفین۔ والذی یمیتنی ثم محیین (شعراء: ٧٨۔ ٨١)

”(اللہ تعالیٰ وہ ہے) جس نے مجھے پیدا کیا۔ پھر اُسی (اکیلے) نے ہی مجھے (راہ راست کی) ہدایت دی۔ اور وہی (اکیلا) مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔ اور جب میں بیمار ہو جاتا ہوں تو وہی (اکیلا) مجھے شفایاب کرتا ہے اور وہی مجھے ماریگا اور پھر زندہ کریگا“۔

اِن الفاظ میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک اکیلے فرد کا کیسا خصوصی تعلق بیان کیا گیا ہے۔ ایسے جیسے اللہ تعالیٰ خاص اور خاص اُسی ابراہیم کا ہی کام کاج کر رہا ہے اور باقی اُمور سے فارغ ہے۔

....................................................................................

قرآن کے درج بالا مقدمات کو تسلیم کرنے والا کبھی بھی حرام رزق کی جدوجہد نہیں کریگا۔ اِن آیات پر ایمان لانے والا خالص اللہ کے ساتھ رغبت رکھے گا اور اُسی کو ہی اپنا ملجاءو ماویٰ، سہارا ومددگار سمجھے گا۔ درج بالا مقدمات اللہ کے ربوبیت عامہ کو ظاہر کر رہے ہیں لیکن اللہ کی قدرت، طاقت، اختیار وکنٹرول، قہر وجبر، تسلط واقتدار ابھی بہت کچھ وسیع ہے۔ اللہ صرف رزق دیتا ہی نہیں رزق چھینتا بھی ہے۔ وہ کوئی گونگی بہری سائنسی قوت نہیں علم وارادہ والی ہستی ہے۔ گناہوں کی وجہ سے یا آزمائش کی غرض سے، ناراضگی سے یا محبوب انسانوں پر خاص طرز کی محبت سے رزق تنگ بھی کر دیتا ہے۔ رزق محدود بھی کرتا ہے۔ بعضوں کو عبرتناک مفلسی میں گرفتار کر دیتا ہے۔ بعضوں کو کوڑی کوڑی کا محتاج کر دیتا ہے۔ فقر وفاقہ، غلبہ الرجال کا ذلت ناک لباس پہنا دیتا ہے۔اپنے شکر گزار بندوں کو بلا حد وحساب رزق بھی دیتا ہے۔ یا پہلے خوب سیراب کرنے والا رزق دیتا ہے اور پھر اُس کے طرز عمل کا تجزیہ کرتا ہے۔ وہ ہر طرح سے رزق اور صبر وشکر، توجہ وانابت، رجوع واعراض کو جانچتا ہے۔

ر) اللہ تعالیٰ ہی رزق میں کمی بیشی کرتا ہے:

مادہ پرست اِنسانوں کی تین قسمیں ہیں۔ پہلے نمبر پر وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے وجود میں ہی مشّکک ہیں یا بالکلیہ منکر ہیں جن کو دہریے یا کمیونسٹ وغیرہ کہا جا سکتا ہے اور ایسے لوگوں کی موجودہ مسلمانوں میں بھی کمی نہیں اگرچہ کہ اُن کا الحاد کھلم کھلا نہیں۔ دوسرے نمبر پر وہ ہیں جو اللہ کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں لیکن وہ اللہ تعالیٰ کو معطل خدا قرار دیتے ہیں۔ جس کو مخلوق سے کوئی دلچسپی نہیں۔ کائنات کا نظام اُس نے چلا دیا۔ اب کوئی جئے، کوئی مرے، کوئی در در کی ٹھوکریں کھائے یا فرعون بن کر لوگوں پر حکومت کرے، اللہ تعالیٰ کو اس سے کوئی غرض نہیں۔ کوئی رزق کی دوڑ میں آگے ہے اور کوئی رزق کی دوڑ میں عاجز وبے بس ہے۔ اللہ کو کسی کی کوئی پرواہ نہیں۔ یہ بھی مادہ پرستی کی ہی ایک شکل ہے جس میں مذہب بالکل کُند، بے کار اور فالتو چیز بن کر رہ جاتا ہے۔ تیسرے نمبر پر وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کو قولاً واقراراً خالق، مالک، رازق، متصرف، فُعّال مانتے ہیں لیکن آخرت کے بارے میں تشکیک کے شکار ہیں۔ اِن کی زندگی کی ساری بھاگ دوڑ فقط دُنیا کیلئے ہے۔ اِن کی زندگی میں کوئی سوچ / عمل اللہ کی رضا اور آخرت کی طلب کیلئے نہیں۔ مادہ پرستی کی یہ تینوں شکلیں باہمی طور پر متفاوت ہونے کے باوجود ایمان واسلام، عقیدہ و فکر اِسلامی کے کم از کم مطلوب معیار کو بھی پورا نہیں کرتیں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ بار بار یہ حقیقت واضح کر رہا ہے کہ وہی اللہ تعالیٰ انسانوں کے رزق میںکمی بیشی کرتا ہے۔

قل ان ربی یبسط الرزق لمن یشاءویقدرو لکن اکثر الناس لا یعلمون (سبا: ٣٦)

”کہہ دیجئے۔ بے شک میرا رب جس کیلئے چاہتا ہے رزق کو بڑھا دیتا ہے اور جس کیلئے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے“۔

یہ آیت اور اس کا مقصود فقط ایک نظریہ نہیں۔ دِل ودماغ کی اتھاہ گہرائیوں تک نفوذ کرنے والی ایک ٹھوس حقیقت ہے۔ اللہ کا وجود ہے۔ اللہ کو مخلوق سے دلچسپی ہے۔ اللہ معبود ہے۔ لوگوں کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ اللہ خوش بھی ہوتا ہے۔ اللہ ناراض بھی ہوتا ہے۔ اللہ رزق دیتا بھی ہے۔ اللہ رزق تنگ بھی کرتا ہے۔ اللہ اجر بھی دیتا ہے عذاب بھی دیتا ہے۔اِن سب حقائق پر ایمان ہو تو قلب کا سارا نظام تہہ وبالا ہو جائے۔ اعصاب، قلب وجوارح پر کپکپی طاری ہو جائے۔ عبدیت، عجز وانکسار، اللہ سے محبت، تعلق، خشیت سے ایسا دل لبریز ہو کہ حرام رزق تو کجا زندگی میں کوئی بھی بُرائی مستقل نفوذ نہ کر سکے۔ یہ اللہ کی قدرت، مشیت، جلال وہیبت ہی ہے کہ انسان ذہنی وعملی طور پر لاکھ مصروف ہو لیکن اللہ کی پکار پر پانچ وقت مسجد کی طرف لپکتا ہے اور اپنی جبینِ نیاز اپنے رب کے سامنے کامل عجز وانکسار کے زمین پر رکھ دیتا ہے۔

وان الی ربک المنتھی۔ وانہ ھو اضحک وابکی۔ وانہ ھو امات واحییٰ .... وانہ ھو اغنی واقنیٰ (النجم: ٤٨)

”اور یقینا صرف تیرے رب کی طرف ہی (لوگوں کا) لوٹنا ہے۔ اور بے شک وہی تو (انسانوں کو) ہنساتا اور رُلاتا ہے اور بے شک وہی (لوگوں کو) مارتا اور زندہ کرتا ہے .... اور بے شک وہ مالدار بناتا ہے اور (ضرورت سے زائد مال دیکر) سرمایہ دار بناتا ہے“۔

اِس آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ فقط رزق ہی اللہ کے ہاتھ میںنہیں بلکہ اِنسانی خوشیوں، مسرتوں، دِل بستگیوں کے سارے خزانے اللہ کے پاس ہیں اور انسانی غموں، پریشانیوں اور افسردگیوں کے سارے ذخیرے بھی اُسی کے پاس ہیں۔

ز) رزق اللہ کا فضل ہے (تسلیم ورضا اور جدوجہد کا کامل توازن)

No comments:

Post a Comment